سوال وجواب
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۳۷
جائے کہ سارا قصور صرف فریق ثانی کا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ سرتا سر مظلوم اور بے قصور ہیں۔ اس قسم کی روش قومی شریعت میں درست ہو سکتی ہے مگر وہ خدائی شریعت کے مطابق، سراسر بے معنی ہے۔ خدائی شریعت کے مطابق، کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ اپنے حصے کی غلطی کو معلوم کیا جائے اور اس کی اصلاح کی جائے۔ مسئلہ کا حل اپنی غلطی کی اصلاح میں ہے، نہ کہ دوسروں کی زیادتیوں کا اعلان کرنے میں۔ اسلام کا نقطہ نظر نتیجہ رخی (Result Oriented) ہے۔ اسلام کا طریقہ دل کی بھڑاس نکالنا نہیں۔
سوال
الرساله مئی ۲۰۰۲ (صفحہ ۲۶) میں آپ نے لکھا ہے کہ "اسلام کے مطابق‘‘ صرف قائم شدہ حکومت ہی کو اسلحہ کے استعمال کا حق ہے۔ غیر حکومتی ادارہ کو کسی بھی عذر کی بناء پر ہتھیار کے استعمال کا حق نہیں‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کسی مسلم گاؤں یا قصبہ میں اسلام دشمن عناصر اچانک حملہ کر کے ان کے معصوم بچوں کا قتل، عورتوں کی آبرو ریزی اور اُن کے مال و اسباب کا لوٹ کھسوٹ شروع کر دیں، ایسے وقت میں وہاں کے مسلمان کیا کریں ؟ آیا’’ ان تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئا ‘‘ پر عمل پیرا ہوں جسے الرسالہ نے ایسے مواقع کے لئے قرآنی اصول بتایا ہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بہو بیٹی کی عزت و آبرو نیلام ہوتا ہو اور اپنے معصوم بچوں کے خون سے گھر بار نہاتا ہوادیکھتے رہیں یا ظالم کو ظلم و تعدی، جور و جفا، قتل و غارت گری سے روکنے کے لئے ہتھیار کا استعمال کریں ؟ (محمد اسحاق فیضی، کشن گنج، بہار)
جواب
الرسالہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ نیشنل وار کے بارے میں ہے، وہ ذاتی ڈیفنس کے بارے میں نہیں ہے۔ جب ملک یا قوم کو کسی کی طرف سے حملہ کا سامنا ہو تو اُس کے مقابلہ میں دفاعی جنگ کا حق صرف قائم شدہ حکومت کو ہے، عوام کو نہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے عوام کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس قسم کے حملہ کا نام لے کر آزاد تنظیمیں بنائیں اور بطور خود مسلح جنگ شروع کر دیں۔ البتہ جہاں تک ذاتی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues