Al-Risala · September 2002 · page 42

سوال وجواب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۲

ربانی طوفان کا نام ہے جو اللہ کی یاد سے اُس کے اندر پیدا ہوا ہو۔ ذکر سے مراد وہ اعلیٰ کیفیاتی عمل ہے جو آدمی کے دل کو تڑپا دے اور اُس کی آنکھوں کو اشکبار کردے۔

سوال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو جنگیں ہوئی ہیں، اُن کو جہاد سے تعبیر کیوں کیا جاتا ہے۔ جب کہ اُس وقت مسلمانوں کی کوئی حکومت نہیں تھی۔ اور آپ کے کہنے کے مطابق، جہاد کے لیے established government کی ضرورت ہے۔ (ایک قاری الرساله، کشمیر)

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے تیرہ سالہ دور میں ظلم کے باوجود جہاد نہیں کیا۔ آپ نے صرف مدنی دور میں جہاد کیا۔ اس فرق کا سبب یہ تھا کہ مکی دور میں اسلام کی حکومت قائم نہ تھی۔ البتہ ہجرت کے بعد مدینہ میں باقاعدہ حکومت قائم ہوگئی۔ اس لیے آپ نے مدینہ پہنچنے کے بعد دفاع کے طور پر جہاد کیا۔

یہ بات خلاف واقعہ ہے کہ مدنی دور میں وہاں اہل اسلام کی حکومت نہیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو وہاں کے باشندوں نے آپ کا استقبال آمر اور مطاع کہہ کر کیا، یعنی حاکم اور قابل اطاعت۔ چنانچہ آپ کے مدینہ پہنچتے ہی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آگیا۔ اس کے سربراہ اول خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔

جواب دینے کے لیے جس طرح علم درکار ہے، اسی طرح سوال کرنے کے لیے بھی علم درکار ہے۔ سوال کرنے والے کو چاہیے کہ وہ سوال کرنے سے پہلے اُس کے علمی تقاضہ کو پورا کرے۔ سائل جب تک اپنے حصہ کا علمی تقاضہ پورا نہ کر لے، اُس وقت تک اُس کے لیے مطالعہ ہے، نہ کہ سوال کرنا۔ سوال میں کشمیر یونیورسٹی میں ایک ریسرچ اسکالر ہوں۔ میں نے اپنے ریسرچ کے متعلق آپ سے تحقیقی موضوع کا انتخاب کروایا تھا۔ آپ نے ’’اُردو شاعری میں سائنسی مزاج‘‘ میرے موضوع کے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page