Al-Risala · September 2002 · page 41

سوال وجواب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱

آزمائش (test) کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ اگر اس جملہ پر غور کریں تو ماننا ہوگا کہ خدا نہ عالم الغیب ہے، نہ وہ کسی کے دل کی بات کو جانتا ہے۔ کیونکہ ٹیسٹ کا فائدہ یہی ہے کہ جو ہم نہیں جانتے وہ جان جاتے ہیں۔ (ایم اے خاں، کلکتہ)

جواب

ٹیسٹ (test) کا مقصد یہ نہیں ہے کہ خدا خود جانے۔ ٹیسٹ کا مقصد سلیکشن ہے۔ یہ ٹیسٹ خدا کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ وہ خود انسان کی نسبت سے ہے۔ یعنی انسانوں میں سے چھانٹ کر اچھے اور برے کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک چیز جو نظری حقیقت ہے اُس کو ایک معلوم اور مشہود واقعہ بنا دیا جائے۔

سوال

ایک مسلم جماعت کے ایک صاحب سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں جو مجلس لگتی ہے اُس مجلس میں سبھی لوگوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حدیث کا مفہوم ہے کہ جہاں اللہ اور اُس کے رسول کا ذکر ہوتا ہے اُس مجلس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ اگر وہاں کوئی بدعتی مسلمان ہو تو کیا اس کی بھی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ اس کا وہ جواب نہ دے سکے۔ برائے مہربانی آپ اس سوال کا جواب دیں (ایک قاری الرساله) جواب حدیث (صحیح مسلم، کتاب الذکر) میں مجالس الذکر کا بیان آیا ہے۔ اُس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسی مجالس میں شرکت کرنے والوں کو اللہ کی طرف سے بخش دیا جاتا ہے۔ مگر اس بشارت کا اطلاق اُس مجلس پر ہے جو اللہ کی مطلوب مجلس ہو، نہ کہ کسی جماعت کے نظم کے تحت قائم کردہ مجلس۔ اسی طرح ذکر سے مراد وہ ذکر ہے جو اللہ کے علم میں ذکر ہو، نہ کہ وہ ذکر جو کسی جماعت کے اپنے وضع کردہ نظام کے تحت ذکر قرار دیا گیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر ایک اعلی عبادت ہے مگر ذکر سے مراد وہ نہیں ہے اور نہ کسی کی تقریر کو ذکر کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ ذکر دراصل ایک فرد مسلم کے دل میں اُمنڈنے والے اُس

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page