Al-Risala · September 2002 · page 44

سوال وجواب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۴

پالیسی اختیار کرے۔ اس موضوع پر میں اپنی کتاب دین کامل میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔ وہاں آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

سوال

میرا ایک مسئلہ ہے جس نے مجھ کو بہت مغموم کر رکھا ہے۔ مسئلہ یوں ہے کہ بندہ بالوں کے گرنے کی پرابلم سے دوچار ہے۔ بال گرتے تو ہیں مگر دواؤں کے باوجود وہ دوبارہ نہیں اگتے۔ کیا رب العالمین اس پر قادر نہیں۔ کیوں ایسا ہے کہ خدا نے کسی کے سر پر خوبصورت بال دیے اور کسی کو گنجا بنا دیا۔ برائے مہربانی آپ اپنی رائے سے نوازیں۔ (عمر رفیق، سری نگر، کشمیر) جواب آپ کے جذبات قابل قدر ہیں۔ بال کے بارے میں جو کچھ آپ نے لکھا ہے، اُس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں ہر چیز آزمائش کے لیے ہوتی ہے، ملنا بھی اور نہ ملنا بھی۔ اسی طرح آدمی کے سر پر اچھے بال کا اُگنا بھی آزمائش ہے اور بال کا جھڑنا یا سفید ہونا بھی آزمائش۔ اس آزمائش میں پورا اترنا یہ ہے کہ آدمی دونوں حالتوں کو یکساں طور پر خدا کی طرف سے سمجھے، وہ ملنے پر نازاں نہ ہو اور نہ ملنا اُس کو مایوسی میں مبتلا نہ کرے۔ آپ بال کے مسئلے کے بارے میں علاج کریں مگر کسی بھی حال میں مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ بلکہ اللہ سے یہ دعا کریں کہ اے اللہ، میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں، تو میرے لیے حسن تلافی کا فیصلہ فرما۔ مجھے آخرت میں جنت دے دے جہاں نہ کوئی بیماری ہوگی اور نہ کوئی محرومی۔

انسان کو خود سے دنیا میں کوئی مصیبت نہیں مانگنا چاہئے۔ لیکن اگر اُس پر کوئی مصیبت آ جائے تو اُس وقت اُس کو کامل صبر کی روش اختیار کرنی چاہئے ۔ یہی مومن کا طریقہ ہے اور یہی جنت کی قیمت ہے۔ سوال میں نے اکثر مکان اور دکان میں یہ جملہ لکھا ہوا دیکھا ہے۔ براہ کرم اس کے بارے میں بتائیں ۔ وہ جملہ یہ ہے "ھذا من فضل ربی" (یہ میرے خدا کا فضل ہے) یہ کوئی دعا ہے، حدیث

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page