Al-Risala · September 2002 · page 45

سوال وجواب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۵

ہے، قرآن کی کوئی آیت ہے یا عربی مقولہ ہے؟ ۔ کیا اس طرح کی چیزیں گھروں اور دکانوں میں ٹانگنا چاہیے؟ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ان سب چیزوں کو لٹکانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وضاحت کریں۔ (شاہ عمران حسن، مونگیر)

جواب

مذکورہ قرآنی آیت جس طرح ادھوری شکل میں مکانوں اور دکانوں میں لکھی جاتی ہے اُس سے اُس کا اصل مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جو خصوصی طاقت عطا فرمائی تھی اُس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: قال هذا من فضل ربى، ليبلوني أأشكر أم اكفر، ومن شكر فإنما يشكر لنفسه، ومن كفر فإن ربى غنى كريم (النمل ۴۰) یعنی انہوں نے کہا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے۔ تاکہ وہ مجھے جانچے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔ اور جو شخص شکر کرے تو وہ اپنے ہی لیے شکر کرتا ہے۔ اور جو شخص ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز ہے، کرم کرنے والا ہے۔

اپنی دکانوں یا مکانوں میں جو لوگ هذا من فضل ربی لکھ کر لگاتے ہیں وہ اس طرح یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دکان اور مکان جو انہیں ملا ہے وہ فضل اور انعام کے طور پر ملا ہے۔ حالانکہ پوری آیت کو سامنے رکھے تو معلوم ہوگا کہ اس قسم کی مادی چیزیں اللہ کی طرف سے جس کو دی جاتی ہیں وہ اُس کو بطور امتحان دی جاتی ہیں، نہ کہ بطور انعام۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز امتحان کا پرچہ ہے۔ جہاں تک انعام الہی کا تعلق ہے، وہ کسی مقبول انسان کو آخرت میں ملے گا، موجودہ دنیا میں نہیں۔ موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور یہاں کی ہر چیز کو امتحان کی مصلحت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ سوال آج کے دور میں جب کہ وسائل (resources) کے نقطۂ نظر سے اہل یورپ و امریکہ مسلم ممالک سے کئی گنا زیادہ ترقی یافتہ ہیں، مسلمانوں کو یورپ وامریکہ کے خلاف قتال پر مبنی جہاد پر دھیان دینا چاہئے یا اپنی طاقت و قوت بڑھانے پر؟ (زبیر احمد، بھاگل پور)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page