شدت پسندی نہیں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۵۷
شدت پسندی نہیں
قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: لا تغلو ا فی دینکم (النساء ۱۷۱) یعنی تم اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ یہی بات حدیث میں بھی آئی ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایا کم والغلو فی الدین، فانما هلك من كان قبلكم بالغلو فی الدین (النسائی، كتاب المناسك، ابن ماجہ، كتاب المناسک، مسند احمد ۱/ ۲۱۵، ۳۴۷) یعنی تم لوگ دین میں غلو سے بچو، کیوں کہ پچھلی امتیں دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں۔
غلو کا مطلب شدت یا انتہا پسندی (extremism) ہے۔ غلو ہر معاملہ میں غلط ہے۔ غلو دین کی اصل روح کے خلاف ہے۔ غلو کا یہی مزاج بڑھ کر تشدد اور لڑائی تک پہنچ جاتا ہے۔ جو لوگ غلو کی نفسیات کا شکار ہوں وہ اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر اعتدال کی روش پر قانع نہیں ہوتے۔ وہ امن اور اعتدال کی روش کو معیار سے کم سمجھتے ہیں اس لیے وہ نہایت آسانی کے ساتھ تشدد کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ وہ مقصد کے حصول کے نام پر لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔
غلو کی ضد اعتدال ہے۔ جب لوگوں کے اندر اعتدال کی نفسیات ہو تو وہ ہمیشہ امن کے انداز میں سوچیں گے، وہ اپنی جدوجہد کو پر امن جدوجہد کے طور پر چلائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اعتدال اور امن دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہایت گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں اعتدال ہوگا وہاں امن ہوگا۔ جہاں امن ہوگا وہاں اعتدال پایا جائے گا۔
اس کے برعکس غلو کی نفسیات ہمیشہ آدمی کو انتہا پسندی کی طرف لے جاتی ہے، اور انتہا پسندی نہایت آسانی کے ساتھ تشدد اور ٹکراؤ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ غلو اور تشدد دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین میں غلو کو بہت زیادہ ناپسند کیا گیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ غلو پسندی کا دوسرا نام تشدد پسندی ہے۔ اور غلو نہ کرنے کا دوسرا نام اعتدال پسندی۔ ایک انسان کا قتل ساری دنیا کا قتل قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ارشاد ہوا ہے : من قتل نفساً بغير نفس او فساد فى الأرض
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues