شدت پسندی نہیں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۵۸
فکأنما قتل الناس جمیعا (المائدہ ۳۲)۔ یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد بر پا کیا ہو تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔ قتل ایک انتہائی کبھیانک عمل ہے۔ کسی فرد کو قتل کرنا صرف اُس وقت جائز ہے کہ وہ سماجی امن کے لیے نا قابل علاج خطرہ بن گیا ہو۔ حقیقی وجہ جواز کے بغیر کسی ایک انسان کو قتل کرنا بھی سارے انسانوں کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ کیوں کہ اس سے احترامِ جان کی روایت ٹوٹتی ہے۔ ایک انسان کو ناحق قتل کرنا بظاہر ایک آسان فعل دکھائی دینے لگتا ہے۔
شراب کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: ما اسکر کثیرہ فقلیله حرام (جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ کرے اس چیز کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے)۔ یہی معاملہ قتل کا بھی ہے۔ بہت سے انسانوں کو قتل کرنا جتنا بھیانک ہے اتنا ہی بھیانک ایک انسان کو قتل کرنا بھی ہے۔ دونوں کے درمیان فرق صرف ڈگری کا ہے، نوعیت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
قرآن کی اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں امن و سلامتی کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ اگر کسی سماج میں ایک شخص کو قتل کر دیا جائے تو پورا کا پورا سماج اُس پر تڑپ اُٹھے۔ سماج میں دوبارہ امن و سلامتی کی حالت کو قائم کرنے کے لیے اس اہتمام کے ساتھ کام کیا جائے جیسے کہ کسی نے ایک فرد کو قتل نہیں کیا ہے بلکہ اُس نے پوری انسانیت پر حملہ کر دیا ہے۔ تشدد کی آگ کو بجھانا قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ارشاد ہوا ہے: کلما اوقدوا ناراً للحرب أطفأها الله (المائدہ ۶۴) یعنی جب بھی وہ لوگ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس آگ کو بُجھا دیتا ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق کا منصوبہ موجودہ دنیا کے بارے میں کیا ہے۔ یہ منصوبہ امن کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی ایک فریق لڑائی کی آگ بھڑکانے پر آمادہ ہو تو دوسرے فریق کو چاہئے کہ وہ پر امن تدبیر سے اُس کو بُجھادے تاکہ تشدد کی آگ پھیلنے نہ پائے۔ ایسا بھی نہیں ہونا چاہئے کہ ایک فریق اگر بم مارے تو دوسرا فریق جوابی بم سے اُس کا مقابلہ کرے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues