Al-Risala · October 2002 · page 64

صبر کا طریقہ حمایت یافتہ طریقہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۶۴

صبر کا طریقہ حمایت یافتہ طریقہ

قرآن کی سورہ نمبر ۸ میں کہا گیا ہے کہ: واصبروا ان الله مع الصابرين (الانفال ۴۶) یعنی تم لوگ صبر کی روش اختیار کرو، بیشک اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو صبر کی روش اختیار کریں۔ صابرانہ طریقہ کار کو دوسرے لفظوں میں پُراُمن طریقہ کار کہا جا سکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقہ کار متشددانہ طریقہ کار ہے۔ مذکورہ آیت فطرت کے اس قانون کو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں جو لوگ پُراُمن طریقہ کار اختیار کریں اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ فطرت کے تمام اسباب اُن کی حمایت میں مستعد ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ متشددانہ طریقہ کار اختیار کریں وہ قوانین فطرت کی تائید سے محروم ہو جاتے ہیں، اور جو لوگ قوانین فطرت کی تائید سے محروم ہو جائیں اُن کے لیے خدا کی اس دنیا میں ناکامی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

صبر کے طریقہ کا مطلب کیا ہے۔ صبر کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ناخوش گوار باتوں پر اپنی برداشت نہ کھوئے ۔ تاکہ اس کی مثبت سوچ درہم برہم نہ ہونے پائے۔ وہ ممکن اور ناممکن میں فرق کرے اور ممکن کواپنا نقطۂ آغاز بنائے۔ وہ اچانک انجام کا خواہشمند نہ ہو بلکہ تدریج کا انداز اختیار کرے ۔ وہ نقصان پر مایوس نہ ہو بلکہ مستقبل کے پیش نظر اپنا عمل جاری رکھے۔ جو کچھ آج ملنے والا ہے اُس کو وہ آج حاصل کرے اور جو کچھ کل ملنے والا ہے اُس کے لیے وہ انتظار کی پالیسی اختیار کرے۔ وہ اپنی خواہش کو فطرت کے قانون کے ماتحت رکھے، نہ کہ فطرت کے قانون کو اپنی خواہش کے ماتحت بنانے کی کوشش کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر مکمل طور پر ایک مثبت عمل ہے، صبر کوئی سلبی یا انفعالی روش نہیں۔ پرامن نظریاتی اشاعت قرآن کی سورہ نمبر ۲۵ میں اہل حق کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : وجاهد هم به جہاداً كبيراً (الفرقان ۵۲) یعنی تم اُن کے اوپر جہاد کرو، بڑا جہاد، قرآن کے ذریعہ۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن ایک کتاب ہے، ایک نظریاتی کتاب۔ وہ کوئی تلوار نہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب صرف یہی ہو سکتا ہے کہ قرآن کے افکار کو لوگوں تک پہنچاؤ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page