دشمن کو دوست بنانا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۶۵
قرآن کے پیغام کو پر امن انداز میں لوگوں کے درمیان عام کرو۔ قرآن کے نظریات کو مدلل انداز میں بیان کرکے اُس کو لوگوں کے لیے قابل قبول بناؤ۔
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جس چیز کو جہاد کہا گیا ہے وہ پر امن جدوجہد (peaceful struggle) ہے، اُس کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاد کا لفظ عربی زبان میں مبالغہ آمیز کوشش کے لیے بولا جاتا ہے، یعنی بہت زیادہ محنت کرنا۔ کسی مقصد کے حصول کے لیے اپنی آخری کوشش صرف کر دینا۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ پر تشدد کوشش کے مقابلہ میں پر امن کوشش زیادہ عظیم ہے۔ کوئی آدمی جب متشددانہ طریقہ کار اختیار کرے تو کوشش کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔ لیکن جب وہ پر امن طریقہ کار اختیار کرے تو اُس کا دائرہ کار لامحدود حد تک بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ متشددانہ طریقہ کار میں صرف تلوار یا گن کارآمد ہے لیکن پر امن طریقہ کار میں ہر چیز آدمی کے لیے ذریعہ اور وسیلہ بن جاتی ہے، حتی کہ بند کمرہ میں استعمال ہونے والا ایک قلم بھی۔
دشمن کو دوست بنانا
قرآن کی سورہ نمبر ۴۱ میں ارشاد ہوا ہے : بھلائی اور بُرائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (حم السجدہ ۳۴)۔
قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک راز بتایا گیا ہے ـــــ وہ راز یہ ہے کہ ہر دشمن انسان کے اندر ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو۔ اور پھر یہ معجزاتی واقعہ پیش آئے گا کہ جو آدمی بظاہر تمہار ا دشمن دکھائی دیتا تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ دشمنی کوئی فطری چیز نہیں، وہ ایک مصنوعی ردعمل ہے۔ جب بھی کسی وجہ سے کوئی شخص بظاہر تمہارا دشمن بن جائے تو تم اُس کے ساتھ رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کرتے ہوئے اُس کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی کوشش کرو، خواہ یہ بہتر سلوک تم کو مفروضہ دشمن کی اشتعال انگیز
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues