خود اپنے عمل کا نتیجہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۶۷
ایک شہر جہاں کا ٹریفک ضابطہ دائیں چلو (keep right) کے اصول پر قائم ہو، وہاں اگر کوئی شخص بائیں چلو (keep left) کے اصول پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے تو یقینی طور پر اُس کی گاڑی حادثہ کا شکار ہو جائے گی۔
یہ حادثہ اگرچہ بظاہر فریق ثانی کی گاڑی کے ٹکرانے سے پیش آیا ہوگا مگر آپ یہ کہنے کا حق نہیں رکھتے کہ فریق ثانی نے ٹکر مار کر آپ کو زخمی کر دیا۔ اس کے برعکس صحیح طور پر آپ کو صرف یہ کہنا چاہئے کہ میں غلط رُخ پر چل رہا تھا اور فریق ثانی کی گاڑی صحیح رُخ پر۔ اس لیے فریق ثانی کی گاڑی میری گاڑی سے ٹکرا گئی۔
یہی معاملہ زندگی کے دوسرے تمام پہلوؤں کا بھی ہے۔ آپ کو جب بھی اپنی زندگی میں کسی نقصان سے دوچار ہونا پڑے تو پیشگی طور پر یہ سمجھ لیجئے کہ جو کچھ ہوا وہ خود آپ کی غلطی کی بنا پر ہوا۔ یہی زندگی کے معاملات میں صحیح سوچ ہے۔ اگر آپ صحیح انداز میں سوچیں تو آپ اپنی اصلاح کر کے اپنے مستقبل کو بچا لیں گے۔ اور اگر آپ اس کے برعکس یہ کریں کہ اپنی مصیبت کا الزام دوسروں کو دیتے رہیں تو آپ اپنے مستقبل کو بھی برباد کریں گے، اور آپ کا ماضی اور حال تو پہلے ہی برباد ہو چکا ہے۔ غصہ ایک کمزوری ہے قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں سچے انسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: واذا مــا غضبوا هم يغفرون (الشوریٰ ۳۷) یعنی جب اُنہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب سادہ طور پر صرف غصہ کو معاف کرنا یا اُس کو بھلا دینا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب غصہ کی نفسیات سے اوپر اُٹھ کر معاملہ کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غصہ دلانے کے باوجود آدمی بے غصہ ہو کر سوچے ۔ وہ غصہ سے متاثر ہوئے بغیر اس کا جواب دے۔
غصہ ایک کمزوری ہے، اور غصہ نہ کرنا ایک طاقت ہے۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ ہر صورت حال کو مینیج کرسکتاہے۔ وہ ہر معاملہ کو اپنے موافق بنا سکتا ہے۔ غصہ آدمی کی عقل کو مختل کر دیتا ہے۔ ایسا آدمی صورت معاملہ کو نہ تو صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے اور نہ صحیح طور پر اُس کا جواب دے سکتا ہے۔ کوئی آدمی غصہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues