خود اپنے عمل کا نتیجہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۶۶
کارروائیوں کے باوجود یک طرفہ بنیاد پر کرناپڑے۔
تمہارا یک طرفہ سلوک یہ کرے گا کہ وہ دشمن کے اندر پیدا ہونے والے منفی جذبات کو دبا دے گا ۔ تمہارا یک طرفہ سلوک دشمن کی سوئی ہوئی انسانیت کو جگا کر اُس کو ایک نیا انسان بنادے گا۔ اور یہ نیا انسان وہی ہوگا جس کو قرآن میں قریبی دوست کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا آدمی ایک ہی مشترک فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی پہلے مسٹر نیچر ہے، اُس کے بعد وہ مسٹر دشمن یا مسٹر دوست بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آپ ہیں وہی آپ کا مفروضہ دشمن بھی ہے۔ اور جو آپ کا مفروضہ دشمن ہے وہی خود آپ بھی ہیں۔ اس لیے آدمی کو چاہئے کہ بظاہر دشمنی کے باوجود وہ فریق ثانی کے اندر اپنے مشترک انسان کو تلاش کرے۔ وہ دوسروں سے بھی وہی اُمید رکھے جو اُمید وہ اپنے آپ سے کئے ہوئے ہے۔
خود اپنے عمل کا نتیجہ
قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں کہا گیا ہے کہ : جو مصیبت بھی تمہارے اوپر پڑتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے (الشوریٰ ۳۰)
قرآن کی اس آیت میں اس حقیقت کو بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا اسباب وعلل کے اصول پر قائم ہے۔ جیسے اسباب ویسا نتیجہ۔ یہ آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ کسی آدمی پر جب بھی کوئی مصیبت پڑے تو اُس کو چاہئے کہ اُس کا سبب وہ خود اپنے اندر دریافت کرے، نہ کہ وہ اپنے سے باہر اس کا سبب تلاش کرنے لگے۔
زندگی کی یہ حقیقت جس آدمی کے ذہن میں بیٹھ جائے وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی کو اپنی مصیبت کا ذمہ دار بنا کر اُس کے خلاف تشدد کا معاملہ کرنے لگے۔ اس کے بجائے وہ صرف یہ کرے گا کہ بے لاگ طور پر اپنی زندگی کا جائزہ لے گا۔ وہ خود اپنی غلطیوں کو دریافت کرے گا تا کہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرکے وہ مصیبت کا شکار ہونے سے بچ جائے ۔ مصیبت کا حوالہ دے کر دوسرے کے خلاف کارروائی کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مریض اپنے مرض کا ذمہ دار اپنے پڑوسی کو بتا کر اُس سے لڑنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues