Al-Risala · January 2002 · page 46

معذوری کے باوجود

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۴۶

معذوری کے باوجود

جولائی ۲۰۰۱ میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے میں نے سوئزرلینڈ کا سفر کیا۔ یہاں میری ملاقات ملیشیا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی۔ ان کا نام ڈاکٹر چندر مظفر (پیدائش ۱۹۴۷) ہے ۔ وہ سیلنگور میں رہتے ہیں (603-62019170.Tel)

ان کو بچپن میں پولیو ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ مستقل طور پر دونوں پیروں سے معذور ہو گئے ۔ اب وہ وہیل چیئر پر رہتے ہیں۔ اس معذوری کے باوجود انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ انگریزی زبان میں وہ لکھنے اور بولنے کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اپنی معذوری کے باوجود وہ ایک بھر پور زندگی گزارتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے لیے ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرا خدا پر عقیدہ تھا جس نے مجھے اپنی جسمانی معذوری پر قابو پانے کے لائق بنایا: I would like to think that it is my faith in God, which enabled me to overcome my physical handicap. خدا پر عقیدہ انسان کو باحوصلہ بناتا ہے۔ جب بھی اس پر کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس کا یہ یقین اس کے لیے سہارا بن جاتا ہے کہ میں نے جس ہستی کو اپنا خدا بنایا ہے وہ ہر چیز سے اوپر ہے۔ وہ تمام طاقتوں سے زیادہ طاقت ور ہے۔ اس طرح خدا کا عقیدہ اس کو ہر بار نیا عزم دیتا ہے۔ وہ نئے حوصلہ کے ساتھ زندگی کی جدوجہد میں داخل ہو جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ آخر کار وہ خدا کی توفیق سے کامیاب ہو جاتا ہے۔

انسان کے اندر فطری طور پر اتنے زیادہ امکانات رکھے گئے ہیں جو حادثات سے کبھی ختم نہ ہوں ۔ ہر حادثہ کے بعد انسان کے لئے ایک نیا موقع باقی رہتا ہے۔ ہر حادثہ کے بعد یہ ممکن رہتا ہے کہ آدمی بقیہ امکانات کو استعمال کر کے از سر نو اپنی زندگی کی تعمیر کر سکے۔ ایک شاخ ٹوٹنے کے بعد وہ دوسری شاخ پر اپنا آشیانہ بنا لے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page