Al-Risala · January 2002 · page 45

چشمہ کا سبق

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۴۵

چشمہ کا سبق

1989 کے وسط میں میں نے کشمیر کا ایک سفر کیا۔ ایک روز میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سرینگر شہر کے باہر گیا۔ ہم لوگ ایک کھلی وادی میں تھے۔ سامنے پہاڑی سلسلے دکھائی دیتے تھے۔ ان پہاڑوں سے نکلنے والے چشمے میدان میں ہر طرف بہہ رہے تھے۔ میں اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک جگہ بیٹھ گیا۔ میں نے کہا کہ دیکھیے یہ سیکڑوں چشمے جو یہاں بہہ رہے ہیں، وہ فطرت کی زبان میں آپ کو ایک بے حداہم پیغام دے رہے ہیں۔ وہ پیغام یہ ہے کہ ٹکراؤ سے اعراض ککے اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔ پھر میں نے کہا کہ ان بہتے ہوئے چشموں کے راستہ میں جگہ جگہ پتھر موجود ہیں۔ یہ پتھر بظاہر ان کے راستہ میں رکاوٹ ہیں۔ اگر یہ چشمے ایسا کریں کہ وہ پتھر کو توڑ کر سیدھ میں آگے جانا چاہیں تو ان کا سفر اچانک رک جائے گا۔ ان چشموں نے اس مسئلہ کا یہ فطری حل نکالا ہے کہ وہ پتھر کے دائیں یا بائیں مڑ کر آگے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح ان کا راستہ ایک لمحہ رکے بغیر جاری رہتا ہے۔ یہ اہل کشمیر کے لئے فطرت کا ایک عظیم سبق ہے۔ آپ لوگوں کو چاہیے کہ سیاسی چٹانوں سے ٹکرانے کا ذہن ختم کر دیں اور ان سیاسی چٹانوں کی موجودگی میں جو مواقع آپ کے لئے کھلے ہوئے ہیں ان کو استعمال کریں۔

یہی انسان کے لئے اس دنیا میں کامیاب سفر کا واحد طریقہ ہے۔ جس طرح بہتے ہوئے چشمہ کے راستہ میں پتھر ہوتے ہیں اسی طرح ہر فرد اور ہر گروہ کے راستہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں موجود ہوتی ہیں۔ عقل مندی یہ ہے کہ آدمی پیش آنے والی رکاوٹوں سے نہ ٹکرائے، وہ رکاوٹوں سے اعراض کرتے ہوئے اپنا سفر مسلسل جاری رکھے۔ رکاوٹوں سے ٹکرانا سفر کوروک دینے کے ہم معنی ہے۔ اس کے برعکس رکاوٹوں سے اعراض کرنا بلا توقف اپنے سفر کے لئے مواقع حاصل کرنا ہے۔ یہ اس دنیا کے لئے فطرت کا قانون ہے۔ اس قانون سے لڑنا خود فطرت کے نظام سے لڑنا ہے، اور کون ہے جو فطرت سے لڑکر کامیاب ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page