Al-Risala · October 2002 · page 71

صلح کی پیشکش کو قبول کرنا

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۷۱

کے کھنڈر پر اپنے لیے ایک نیا محل تعمیر کر لیتے ہیں۔ وہ ایک شام کے بعد دوبارہ اپنے لیے ایک نئی صبح تلاش کر لیتے ہیں جس کی روشنی میں وہ اپنا سفرُ کے بغیر جاری رکھ سکیں۔

صلح کی پیشکش کو قبول کرنا

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قریش کی جارحیت کے نتیجہ میں، قریش اور مسلمانوں کے درمیان حالتِ جنگ قائم ہوگئی تھی۔ اس موقع پر جو احکام قرآن میں دیے گئے اُن میں سے ایک حکم یہ تھا: وان جنحوا للسلم فاجنح لها وتوكل على الله انه هو السميع العليم، وان يريدوا أن يخدعوك فإنّ حسبك الله (الانفال ٦١۔ ٦٢) یعنی اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی صلح کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں گے تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں امن آخری حد تک مطلوب ہے۔ حتیٰ کہ اگر رسک (risk) لے کر امن قائم ہوتا ہو تو رسک لے کر بھی امن قائم کیا جائے گا۔ جیسا کہ قرآن کی اس آیت میں تعلیم دی گئی ہے۔ حالت جنگ کے دوران اگر فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو بلا تاخیر اُس کو قبول کر لینا چاہیے۔ بالفرض اگر یہ اندیشہ ہو کہ صلح کی اس پیش کش میں کوئی دھوکہ چھپا ہوا ہے تب بھی اس اعتماد پر فریق ثانی سے صلح کی جائے گی کہ خدا ہمیشہ امن پسندوں کے ساتھ ہوتا ہے، نہ کہ فریب دینے والوں کے ساتھ۔

اس سے مزید یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اس دنیا میں امن ہمیشہ وہ لوگ قائم کرتے ہیں جو اعلیٰ حوصلہ کے مالک ہوں۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایک اور دوسرے فریق کے درمیان مسائل موجود رہتے ہیں۔ ہمیشہ حقوق اور بے انصافی کے مسائل پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہی لوگ امن قائم کر سکتے ہیں جو ہر دوسرے تقاضہ سے بلند ہو کر سوچیں، جو کسی بھی چیز کو عذر نہ بنائیں۔ صرف ایسے باحوصلہ لوگ ہی دنیا میں امن قائم کرتے ہیں۔ جن لوگوں کے اندر یہ حوصلہ نہ ہو وہ صرف لڑتے رہیں گے، وہ امن کی تاریخ نہیں بنا سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page