Al-Risala · October 2002 · page 403

زیادہ بڑا رزق

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۰۳

زیادہ بڑا رزق

قرآن کی سورہ نمبر ۲۰ میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے زندگی کی ایک حقیقت کو اس طرح بتایا گیاہے : ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحيوة الدنيا، لنفتنهم فيه و رزق ربك خير وابقیٰ (طٰه ۱۳۱) یعنی تم ہرگز ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جن کو ہم نے اُن کے کچھ گروہوں کو اُن کی آزمائش کے لیے انہیں دے رکھا ہے۔ اور تمہارے رب کا رزق زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔

اصل یہ ہے کہ زندگی کی دو مختلف صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ آدمی مادی دنیا کو اپنا نشانہ بنائے۔ وہ ملک و مال میں اپنی کامیابی تلاش کرے ۔ ان چیزوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ یہی مادی چیزیں ہیں جن میں چھین جھپٹ کا معاملہ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے جو لوگ مادیات میں جیتے ہوں وہ یکسر حق تلفی یا محرومی کے احساس کا شکار رہتے ہیں ۔ یہ احساس بار بار حسد اور انتقام اور تشدد کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔

زندگی کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی یافت (achievement) کے احساس میں جیتا ہو۔ ایسا آدمی اپنے آپ میں مطمئن ہوگا۔ اُس کے اندر پارہانے کا احساس اُس کو اس سے بچائے گا کہ وہ دوسروں کے خلاف نفرت کرے یا اُن کے خلاف تشدد کا منصوبہ بنائے۔

یافت کا یہ احساس کن لوگوں کو حاصل ہوتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن کے الفاظ میں، رزق رب مل رہا ہو۔ رزق رب سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو یہ یقین حاصل ہو کہ اُس نے سچائی کو پا لیا ہے۔ اُس نے اس حقیقت کو دریافت کیا ہو کہ خالق نے اُس کو جو وجود دیا ہے وہ سونے چاندی کے تمام ذخیروں سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ اس طرح بیدار ذہن کے ساتھ دنیا میں رہے کہ پوری کائنات اُس کے لیے فکری اور روحانی خوراک کا دسترخوان بن جائے۔

جو آدمی دنیا سے اس طرح کا رزق رب پا ہو وہ اتنا زیادہ اوپر اٹھ جاتا ہے کہ ملک و مال جیسی چیزیں اُس کے لیے حقیر بن جاتی ہیں۔ اُس کی یہ نفسیات اپنے آپ اُس کو امن پسند بنا دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page