Al-Risala · October 2002 · page 405

انسانوں کے لئے رحمت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۰۵

پیغمبروں کی سنت کے مطابق ، مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ اس منع کو قبول کرتے ہوئے اس کے ماتحت پر امن طور پر دعوت کا کام کریں۔ مگر ساری دنیا کے مسلم رہنماؤں نے سیکولرزم کو لا دینیت قرار دے کر اُس کے خلاف لفظی اور عملی لڑائی چھیڑ دی ۔ اس طرح وہ غیر ضروری طور پر سیکولرزم کے حریف بن گئے۔ سیکولر نظام کے تحت ملا ہوا قیمتی منع استعمال ہونے سے رہ گیا۔

انسانوں کے لئے رحمت

قرآن کی سورہ نمبر ۲۱ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وما ارسلنک الا رحمة للعالمين (الأنبياء ۱۰۷) یعنی ہم نے تم کو تبس دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

پیغمبر اسلام ﷺ کا آنا ساری دنیا کے انسانوں کے لیے خدا کی رحمت کا ظہور تھا۔ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے وہ اصول بتائے جن کو اختیار کر کے انسان دارالسلام (یونس ۲۵) میں آباد ہوسکتا ہے ، یعنی امن و سلامتی کی کالونی میں ۔ آپ کے ذریعہ وہ تعلیمات اتاری گئیں جو انسانی معاشرہ کو پُر امن معاشرہ بنا سکتی ہیں۔ آپ نے تاریخ میں پہلی بار امن (peace) کے تصور پر مبنی مکمل آئیڈیالوجی پیش کی۔ آپ نے زندگی کا وہ فارمولا بتایا جو آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نفرت اور تشدد سے بچتے ہوئے اپنے لیے ایک صحت مند زندگی کی تعمیر کر سکے۔ آپ کے ذریعہ دنیا میں وہ انقلاب آیا جس نے اس بات کو ممکن بنایا کہ ٹکراؤ اور جنگ سے بچتے ہوئے انسان ایک پُر امن سماج بنا سکے۔ پیغمبر اسلام کو اگر چہ مجبور کن حالات میں بعض ایسی لڑائیاں لڑنی پڑیں جو اتنی چھوٹی تھیں کہ اُن کو جنگ کے بجائے جھڑپ کہنا زیادہ صحیح ہے۔ پیغمبر اسلام نے ایک عظیم انقلاب برپا کیا جس کو بجاطور پر غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جا سکتا ہے۔

پیغمبر اسلام نے امن کو مکمل نظریہ حیات کی حیثیت دی۔ آپ نے بتایا کہ تشدد تخریب کا ذریعہ ہے اور امن تعمیر کا ذریعہ۔ آپ نے صبر کو سب سے بڑی عبادت بتایا جس کا مطلب مکمل طور پر امن کی روش پر قائم رہنا ہے۔ آپ نے فساد کو سب سے بڑا جرم بتایا جس کا مطلب فطرت کے پُر امن نظام کو

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page