Al-Risala · October 2002 · page 406

جہاد پر امن عمل کا نام ہے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۰۶

درہم برہم کرنا ہے۔ آپ نے امن کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ ایک انسان کے قتل کو سارے انسانوں کے قتل کے برابر قرار دیا۔

ملاقات میں السلام علیکم کہنے کو رواج دینا، اس کا مطلب یہ تھا کہ باہمی تعلقات کی بنیاد امن و سلامتی پر ہے۔ آپ نے آخرت کی کامیابی کو انسانی جدوجہد کی منزل بتایا، اس طرح آپ نے دنیوی ترقی کو نشانہ بنانے کی جڑ کاٹ دی جس کی وجہ سے ٹکراؤ اور تشدد کی تمام صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ آپ نے انسان کے لیے بہتر زندگی کا یہ فارمولا دیا۔ لوگوں کو نفع دینے والے بنو، اور اگر تم نفع نہیں دے سکتے ہو تو لوگوں کے لیے بے ضرر (harmless) بن جاؤ۔ آپ نے بتایا کہ کسی کو اپنا دشمن نہ سمجھو۔ تم دشمن کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو، پھر تم کو معلوم ہوگا کہ ہر دشمن امکانی طور پر (potentially) تمہارا دوست تھا۔ ہر دشمن انسان کے اندر ایک دوست انسان چھپا ہوا تھا۔

جہاد پر امن عمل کا نام ہے

ملا علی قاری مشہور عالم اور فقیہہ ہیں۔ اُن کا پورا نام یہ ہے: علی بن (سلطان) محمد، نور الدین الملا الہروی القاری ۔ ملا علی قاری ہرات میں پیدا ہوئے۔ اُن کی وفات ۱۰۱۴ھ (۱۶۰۶ء) میں مکہ میں ہوئی۔ انہوں نے مختلف اسلامی موضوعات پر کثیر تعداد میں کتا بیں لکھیں (کتاب الأعلام) ملا علی قاری کی ایک کتاب کا نام مرقاۃ المصابیح ہے جو مشکاۃ المصابیح کی شرح میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب میں ملا علی قاری کتاب الجہاد کے تحت لکھتے ہیں کہ جہاد کے لفظ میں لغوی طور پر جدوجہد اور مشقت کا مفہوم ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ثم غلب في الإسلام على قتال الكفار۔ یعنی پھر جہاد کا لفظ اسلام میں اہلِ کفر سے جنگ کے لیے استعمال ہونے لگا۔

ہر لفظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتا ہے اور دوسرا استعمالی مفہوم۔ یہی معاملہ جہاد کا بھی ہے۔ جہاد کا لفظ جہد سے نکلا ہے۔ لغوی طور پر اس کے معنی کوشش کے ہیں۔ اس میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ استعمال میں یہ لفظ مختلف قسم کی جدوجہد کے لیے لکھا یا بولا جاتا ہے۔ اُنہی میں سے ایک جنگ بھی ہے، تاہم اس کا استعمال صرف اس استثنائی جنگ کے لیے خاص ہے جو فی سبیل اللہ کی گئی ہو، ملک و مال

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page