سماجی امن کا فارمولا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۰۹
موطا کتاب الجامع، مسند احمد)۔ یعنی طاقت وہ نہیں ہے جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے۔ طاقت ور صرف وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔
غصہ کے وقت غصہ کو روکنا سلف کنٹرول (self control) کی علامت ہے۔ اور سلف کنٹرول بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایسے موقع پر سلف کنٹرول آدمی کو غلط کارروائیوں سے بچاتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر سلف کنٹرول کی طاقت نہ ہو، وہ غصہ کے وقت بپھر اٹھے گا، یہاں تک کہ وہ متشددانہ کارروائی کرنے لگے گا۔ غصہ کو قابو میں رکھنا امن پسند انسان کا طریقہ ہے اور غصہ کے وقت بے قابو ہو جانا تشدد پسند انسان کا طریقہ۔
ایک آدمی کی لڑائی دوسرے آدمی سے ہو اور وہ اُس کو لڑائی میں پچھاڑ دے تو یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ دوسرے آدمی کے مقابلہ میں پہلا آدمی جسمانی اعتبار سے زیادہ طاقتور تھا۔ مگر جسمانی طاقت ایک محدود طاقت ہے۔ اس کے مقابلہ میں جس شخص کا یہ حال ہو کہ اُس کے اندر غصہ بھڑک کے مگر وہ اپنے غصہ پر کنٹرول کرلے اور غصہ دلانے والے کے ساتھ معتدل انداز میں معاملہ کرے، ایسا آدمی زیادہ بڑی طاقت کا مالک ہے۔ اُس کی یہ روش اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عقل کی طاقت رکھتا ہے، اور عقل کی طاقت بلاشبہ جسم کی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے۔ ایسا آدمی اپنی دانش مندانہ منصوبہ کے ذریعہ ہر جنگ کو جیت سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اُس نے ایک انسان کا بھی خون بہایا ہو۔
سماجی امن کا فارمولا
سماجی امن کا فارمولا کیا ہے اور کسی سماج میں معتدل حالات کو کس طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے، اس کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان الفتنة نائمة لعن الله من أيقظها (حدیث) یعنی فتنہ سویا ہوا ہے۔ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو سوئے ہوئے فتنہ کو جگائے۔ یہ سماجی امن کا ایک فطری فارمولا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر انا (ego) کا جذبہ موجود ہے۔ اور انا کا جذبہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو چھیڑا جائے تو وہ بہت جلد بھڑک اٹھے گا اور فساد برپا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues