اللہ کا نام سلامتی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۰۸
بھی آپ امن اور سلامتی کی اصطلاحوں میں سوچتے تھے، اُس وقت بھی آپ کا دل اس آرزو سے تڑپ رہا تھا کہ اللہ کی مدد سے وہ دنیا میں امن اور سلامتی کا ماحول قائم کرسکیں۔ سچا انسان وہ ہے جو جنگ کے وقت بھی امن کی بات سوچے، جو لڑائی کے ہنگاموں میں بھی سلامتی کا جذبہ اپنے دل میں لیے ہوئے ہو۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ مثبت سوچ (positive thinking) کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، جنگ تمام منفی واقعات میں سب سے بڑا منفی واقعہ ہے۔ پیغمبر عین اس کے کنارے کھڑا ہوا ہے مگر اُس کی زبان سے خون اور تشدد کے بجائے امن اور سلامتی کے الفاظ نکل رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے۔ اعلیٰ انسان وہ ہے جو تشدد کے درمیان بھی امن کی بات سوچے، جو جنگ کے حالات میں بھی صلح کا منصوبہ بنائے۔
اللہ کا نام سلامتی
قرآن میں اللہ کے مختلف نام (یا صفات) بتائے گئے ہیں۔ اُن میں سے ایک السلام ہے، یعنی سلامتی۔ گویا خدا خود سلامتی کا مظہر ہے، خدا خود سلامتی کا پیکر ہے۔ خدا کو امن و سلامتی اتنا زیادہ پسند ہے کہ اُس نے اپنا ایک نام السلام رکھا۔
اس آیت کی تفسیر میں الخطابی نے لکھا ہے کہ : معناه الذى سلم الخلق من ظلمہ (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، الجزء ۱۸، صفحہ ۴۶) یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہستی جس کے ظلم سے لوگ محفوظ رہیں۔ لوگوں کو جس سے سلامتی کا تجربہ ہو، نہ کہ تشدد کا۔
خدا کی حیثیت اعلیٰ ترین معیار کی ہے۔ جب خدا کا برتاؤ انسانوں سے امن اور سلامتی پر مبنی ہو تو انسانوں کو بھی دوسرے انسانوں کے ساتھ اسی برتاؤ کا معاملہ کرنا چاہئے۔ ہر انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ امن و سلامتی کا برتاؤ کرنا چاہئے، نہ کہ اس کے خلاف سختی اور تشدد کا۔ طاقتور کون ایک حدیث کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ليس الشديد بالصرعة، انما الشديد الذى يملك نفسه عند الغضب (البخاری، کتاب الادب، كتاب البر،
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues