Al-Risala · October 2002 · page 411

خاموشی میں نجات

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱۱

کیا جائے ۔ جو لوگ ایسا کریں وہ اس انجام سے بچ جائیں گے کہ وہ اپنے بولے ہوئے الفاظ پر پچھتائیں۔ وہ اپنے کہے ہوئے بول کو لوٹانا چاہیں، حالاں کہ کسی کا کہا ہوا بول دوبارہ اُس کی طرف لوٹنے والا نہیں۔

عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی خلاف مزاج بات سامنے آتی ہے تو آدمی بھڑک کر ناپسندیدہ انداز میں کلام کرنے لگتا ہے۔ اس سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ روزمرہ کی معمولی بات چیت میں آدمی اس کی عادت ڈالے کہ وہ پہلے سوچے اور پھر بولے۔ جب ایسا ہوگا کہ معمول کی بات چیت میں وہ بولنے سے پہلے سوچنے کا عادی ہو جائے گا تو وہ اپنی اس عادت کی بنا پر خلاف معمول بات چیت میں بھی اسی طریقہ پر کار بند رہے گا۔ عام بات چیت میں اپنے آپ پر کنٹرول رکھ کر بولنے کی عادت اُس کو اس قابل بنا دے گی کہ وہ ہنگامی مواقع پر بھی اپنے آپ پر کنٹرول رکھ کر بولے، وہ ذہنی ڈسپلن کے ساتھ بات چیت کرے ۔

دنیا کے اکثر فتنے الفاظ کے فتنے ہیں۔ کچھ الفاظ نفرت اور تشدد کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں۔ اور کچھ دوسرے الفاظ امن اور انسانیت کا ماحول قائم کرتے ہیں۔ اگر آدمی صرف یہ کرے کہ وہ بولنے سے پہلے سوچے اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر بولے تو بیشتر فتنے پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے۔

اپنے آپ کو قابو میں رکھ کر کلام کرنا ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ یہ صفت ان لوگوں میں ہوتی ہے جو اپنے آپ پر نظرثانی کرتے رہیں، جو اپنے قول وعمل کا حساب لیتے رہیں ۔ آدمی کو چاہیے کہ جب وہ کوئی بات سنے تو وہ فوراً اُس کا جواب نہ دے، وہ فوراً اپنا رد عمل پیش نہ کرے۔ وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھہر کر سوچے کہ کہنے والے نے کیا بات کہی ہے اور میری طرف سے اس کا بہتر جواب کیا ہوسکتا ہے۔ بات کو سن کر ایک لمحہ کے لیے ٹھہر نا اس بات کی یقینی ضمانت ہے کہ وہ سنی ہوئی بات کا درست جواب دے گا، وہ پتھر کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے پتھر کا جواب پھول سے دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page