Al-Risala · October 2002 · page 412

دشمن سے ٹکراؤ نہیں

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱۲

دشمن سے ٹکراؤ نہیں

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنوا لقاء العدو، وسلوا الله العافية (صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر) ۔ یعنی دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، تم اللہ سے امن مانگو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اگر تمہارا دشمن بن جائے تو ایسا نہ کرو کہ تم بھی اُس کے دشمن بن کر اُس سے لڑنا شروع کردو۔ بلکہ فریق ثانی کی دشمنی کے باوجود تم اُس کے ساتھ اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ دشمنی کے حالات کے باوجود تمہارا طریقہ لڑائی سے بچنے کا ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے آپ کو لڑائی میں پھنسا لینے کا۔

اللہ سے امن مانگو کا مطلب یہ ہے کہ تم ٹکراؤ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرو اور اپنی امن پسندانہ کوششوں کے ساتھ خدا کو بھی دعاؤں کے ذریعہ اُس میں شامل کرو۔ تمہاری دعا یہ نہیں ہونی چاہیے کہ خدایا، دشمن کو ہلاک کر دے بلکہ یہ ہونی چاہیے کہ خدایا، مجھے توفیق دے کہ میں لوگوں کی دشمنی کے باوجود تشدد اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کروں بلکہ امن کے راستہ پر اپنی زندگی کا سفر طے کرتا رہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے نقشہ کے مطابق، اس دنیا میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور تشدد کی حیثیت صرف ایک استثناء (exception) کی۔ مزید اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر بظاہر کوئی شخص یا گروہ آپ کا دشمن ہو تو اُس سے نپٹنے کی صرف یہی ایک شکل نہیں ہے کہ اُس سے مڈبھیڑ کی جائے۔ زیادہ بہتر اور مؤثر شکل یہ ہے کہ امن کی تدبیر سے دشمن کے مسئلہ کا حل نکالا جائے۔ امن کی طاقت تشدد کی طاقت کے مقابلہ میں، زیادہ کارگر بھی ہے اور زیادہ مفید بھی۔

نان وائلنس کا طریقہ

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان الله يعطى على الرفق ما لا يعطى على العنف (مسلم، کتاب البر، ابوداؤد، کتاب الأدب، سنن ابن ماجه، کتاب الادب، سنن الدارمی، کتاب الرقاق، مسند احمد ۱۱۴/ ار) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ یہ دراصل فطرت کے اُس قانون کا بیان ہے جو خُدا نے موجودہ دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ اسی قانون کی بنا

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page