Al-Risala · October 2002 · page 415

لچک کا طریقہ، نہ اکڑ کا طریقہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱۵

متشددانہ طریق کار کو اختیار نہ کیا جائے بلکہ پر امن طریق کار کو اختیار کیا جائے ۔ کیوں کہ متشددانہ طریق کار یقینی طور پر مشکل ہے اور پر امن طریق کار یقینی طور پر آسان ۔

تاہم یہ سادہ طور پر صرف آسان اور مشکل کا معاملہ نہیں ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں پر امن طریقہ ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے اور متشددانہ طریقہ یقینی طور پر بے نتیجہ ہے۔ وہ مسئلہ کو حل نہیں کرتا البتہ اُس میں کچھ اور اضافہ کر کے اُس کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ حدیث میں مشکل طریقہ سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ مقصد کا حصول مشکل ہو۔ اس کے مقابلہ میں آسان سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ مقصد کا حصول آسان اور یقینی ہو۔

لچک کا طریقہ، نہ اکڑ کا طریقہ

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے ــــــــــ صحیح البخاری ، کتاب التوحید، صحیح مسلم، کتاب المنافقین، سنن الدارمی، کتاب الرقاق، مسند احمد۔ اس حدیث میں مومن، بالفاظ دیگر، خدا پرست انسان کی مثال خامہ سے دی گئی ہے۔ خامہ نرم پودے کو کہتے ہیں ۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ مومن کا حال نرم پودے کی طرح ہے۔ جب بھی ہوا کا کوئی جھونکا آتا ہے تو وہ اُس کے مطابق، جھک جاتا ہے۔ اور جب جھونکا چلا جائے تو وہ دوبارہ اُٹھ جاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو بلا اور مصیبت سے بچا لیتا ہے۔

اس حدیث کے مطابق، کسی طوفان کا سامنا کرنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک یہ کہ اُس کے مقابلہ میں اکڑ دکھائی جائے ۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اُس کے مقابلہ میں لچک کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مقابلہ کا ایک طریقہ متشددانہ طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ پر امن طریقہ۔ خدا کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے طریقہ کو چھوڑ دیا جائے اور دوسرے طریقہ کو اختیار کیا جائے۔

طوفان کے مقابلہ میں جو لوگ اکڑ کا طریقہ اختیار کریں وہ اپنے اس عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ وہ انانیت میں مبتلا ہیں۔ اس کے مقابلہ میں امن کا طریقہ تواضع پر مبنی ہے۔ خدا کی اس دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page