پُر امن طریق کار زیادہ بہتر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱۴
اپنے حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑا مارے اور تمہارا مال چھین لے۔ ان حدیثوں میں بظاہر دو قسم کے احکام ہیں۔ ایک طرف یہ حکم ہے کہ تم اپنے حاکم میں کوئی غلط بات دیکھو تو کھلے طور پر اس کا اعلان کرو۔ دوسری طرف حدیث یہ بتاتی ہے کہ امیر کے اندر تمہیں کوئی غلط بات دکھائی دے تو اس پر صبر کرو، اگر وہ تمہارے اوپر ظلم کرے تب بھی تم اُس کو برداشت کرو۔ یہ ایک بے حد اہم ہدایت ہے جس سے دو چیزوں کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ ہے، اعلان اور اقدام کا فرق۔ یہ ایک مطلوب بات ہے کہ آدمی حکمراں کے اندر کوئی غلط بات دیکھے تو وہ نصیحت اور خیر خواہی کے انداز میں اُس کا اعلان کرے۔ مگر جہاں تک عملی اقدام کا تعلق ہے تو آدمی کو اُس سے مکمل طور پر باز رہنا چاہئے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ نصیحت اور ٹکراؤ کی سیاست میں فرق کرے۔ نصیحت کے جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے وہ سیاسی ٹکراؤ سے مکمل طور پر بچے ۔
فرق کا یہ اصول بے حد اہم ہے۔ سماج میں جب بھی تشدد کا ماحول بنتا ہے، وہ اُس وقت بنتا ہے جب کہ لوگ حکمراں کے خلاف عملی ٹکراؤ کی مہم شروع کر دیں۔ وہ اصلاح سیاست کے نام پر حکمراں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ لیکن اگر اس قسم کی نزاعی سیاست سے بچتے ہوئے صرف قولی نصیحت پر اکتفا کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہوگا کہ سماج میں امن قائم رہے گا، سماج کبھی بھی تشدد کا جنگل نہیں بنے گا۔
پُر امن طریق کار زیادہ بہتر
ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ معاملات میں پیغمبر اسلام کی پالیسی کیا تھی۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ماخیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الاختار أيسرهما ( صحیح البخاری ، کتاب الأدب ) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی معاملہ میں دو میں سے ایک طریقِ کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان تر کا انتخاب کرتے تھے۔ اختیار ایسر کے اس اصول کو اگر متشددانہ طریقہ کار اور پُر امن طریقِ کار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو اُس سے نپٹنے کے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues