انتظار بھی حل ہے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱۷
(الترمذی، کتاب الدعوات)۔ یعنی کشادگی کا انتظار کرنا ایک افضل عبادت ہے۔
ہر فرد اور ہر گروہ پر ہمیشہ ایسے حالات آتے ہیں جن میں وہ اپنے آپ کو تنگی میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایسے موقع پر بیشتر لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر تنگی کو ایک مستقل حالت سمجھ لیتے ہیں اور اُس کو فوراً اپنے آپ سے دور کرنے کے لیے حالات سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس قسم کی لڑائی ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ تنگی پر کچھ اور مشکلات کا اضافہ کر لیا جائے۔
تنگی کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں آتی، وہ صرف وقتی طور پر آتی ہے۔ ایسی حالت میں تنگی کے مسئلہ کا آسان حل صرف یہ ہے کہ انتظار کی پالیسی اختیار کی جائے۔ یعنی غیر ضروری طور پر حالات سے لڑائی نہ چھیڑی جائے بلکہ سادہ طور پر انتظار کرو اور دیکھو (wait and see) کی پالیسی اختیار کی جائے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کا ذہنی سکون برباد نہ ہوگا۔ اور جو کچھ ہونے والا ہے وہ اپنے آپ اپنے وقت پر ہو جائے گا۔
جب کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ فوراً اُس کا حل نکل آئے۔ یہی اصل غلطی ہے۔ آدمی اگر پیش آئے ہوئے مسئلے کو انتظار کے خانہ میں ڈال دے تو کوئی مسئلہ مسئلہ نہیں۔ خدائی انتباہ، نہ کہ انسانی ظلم پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بعد کے جن حالات سے پیشگی طور پر آگاہ کیا ہے اُن میں سے ایک یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں مسلم امت دوسری قوموں کی زد میں آجائے گی۔ چنانچہ فرمایا: یوشک الامم أن تداعى عليكم كما تداعى الأكلة الى قصعتها (ابو داؤد، کتاب الملاحم، مسند احمد) یعنی قریب ہے کہ قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو پکاریں جس طرح کھانا کھانے والے ایک دوسرے کو دستر خوان پر پکارتے ہیں۔
قرائن بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ اٹھارویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پیش آیا۔ ابتداءً یورپ کی نو آبادیاتی قوموں کے ذریعہ یہ واقعہ ہوا۔ اس کے بعد دوسری قومیں اس میں شریک ہوتی چلی گئیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues