Al-Risala · October 2002 · page 418

انتظار بھی حل ہے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱۸

اس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ایسا کیوں ہوا ۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ براہ راست خدا کی سنت کے تحت پیش آیا۔ خدا کی سنت یہ ہے کہ قوموں کو جگانے کے لیے اُن پر تنبیہات نازل کی جاتی ہیں ۔ یہ گویا شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہوتا ہے تاکہ وہ چونکیں اور اپنی اصلاح کریں ۔ چنانچہ فرمایا: فلولا اذ جاء هم باسنا تضرعوا ولكن قست قلوبهم و زين لهم الشيطان ما كانوا يعملون (الانعام ۴۳) یعنی پس جب ہماری طرف سے اُن پر سختی آئی تو کیوں نہ وہ گڑگڑائے ۔ بلکہ اُن کے دل سخت ہو گئے ۔ اور شیطان اُن کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کر کے دکھاتا رہا۔

اس آیت میں تزئین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے ۔ ایک بُرے کام کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنا تا کہ اُس کی بُرائی چھپ جائے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ساتھ عین یہی واقعہ پیش آیا ۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر عین وہی کام کیا جس کو مذکورہ آیت میں تزئین کہا گیا ہے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ غیر قوموں کی طرف سے جو مسائل پیش آئے وہ خدائی انتباہ (warning) تھے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے ان مسائل کو ظلم اور سازش کی اصطلاحوں میں بیان کرنا شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو واقعہ اس لیے تھا کہ مسلمان اپنی کوتاہیوں کو محسوس کریں اور اپنی داخلی اصلاح میں سرگرم ہو جائیں ۔ اس کے بجائے مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی ساری سوچ غیر اقوام کی طرف متوجہ ہو گئی۔ جس واقعہ سے احتسابِ خویش کا ذہن پیدا ہونا چاہئے تھا ، اس سے احتسابِ غیر کا ذہن جاگ اُٹھا، جو بڑھتے بڑھتے تشدد تک جا پہنچا۔ خاموشی کی طاقت حضرت عمر فاروق اسلامی تاریخ کے دوسرے خلیفہ ہیں۔ اُن کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : أميتوا الباطل بالصمت عنه۔ (تم لوگ باطل کو ہلاک کرو اُس کے بارے میں چپ رہ کر)۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں حق کو زندگی ملتی ہے اور باطل کے لیے موت مقدر

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page