تشدد کا کوئی جواز نہیں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۲۱
دیتا ہے۔ ایک اگر بگاڑ کا راستہ ہے تو دوسرا بناؤ کا راستہ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم عرب میں اصلاح کا جو طریقہ اختیار کیا اُس کو ایک لفظ میں، پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کہا جاسکتا ہے۔ مثلاً اُس زمانہ میں خانہ کعبہ کے اندر ۳۶۰ بُت رکھے ہوئے تھے۔ یہ ایک بڑا مسئلہ تھا۔ مگر قرآن کے ابتدائی دور میں اس قسم کا حکم نہیں اُترا کہ طہر الکعبة من الاصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ اس کے بجائے اس ابتدائی دور میں قرآن میں جو آیت اُتری وہ تھی: وثيابك فطهر (المدثر ۴) یعنی اپنے کپڑے کو پاک کرو۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اپنے اخلاق کو اور دوسروں کے اخلاق کو درست بناؤ۔
تشدد کا کوئی جواز نہیں
تشدد انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ تشدد انسانیت کا قتل ہے۔ تشدد تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اس کے باوجود لوگ کیوں تشدد کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ ایسے لوگ خود ساختہ طور پر اپنے لیے تشدد کا ایک جواز (justification) ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ بطور خود یہ خیال قائم کر لیتے ہیں کہ فلاں وجہ سے اُن کے لیے تشدد کرنا جائز ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ تشدد کا ہر جواز جھوٹا جواز ہے۔ کوئی فرد یا گروہ جب بھی تشدد کرتا ہے، عین اُسی وقت اُس کے لیے عدم تشدد یا پر امن طریق کار موجود ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں تشدد کیوں۔ جب تشدد کے بغیر عمل کرنے کا موقع موجود ہو تو تشدد کیوں کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد مطلق طور پر قابل ترک ہے اور امن مطلق طور پر قابل اختیار۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد نہ کرے، وہ ہر صورت حال میں پر امن طریق عمل پر قائم رہے۔
عداوت کے مسئلہ کا حل
بہت سے لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ فلاں قوم ہماری دشمن ہے۔ پھر اس مفروضہ کے تحت وہ اُس قوم کے خلاف متشددانہ لڑائی چھیڑ دیتے ہیں تا کہ اُس کی دشمنی کے انجام سے اپنے آپ کو بچا سکیں ۔ مگر یہ مفروضہ بھی غلط ہے اور اس مفروضہ کی بنیاد پر بنایا جانے والا نقشہ کار بھی غلط۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues