Al-Risala · October 2002 · page 422

عداوت کے مسئلہ کا حل

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۲۲

دشمنی ہاتھ کی انگلی کی طرح انسانی وجود کا کوئی مستقل حصہ نہیں۔ وہ انسانی وجود کا ایک اوپرى حصہ ہے۔ مثبت تدبیر کے ذریعہ ہر دشمنی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ دشمنی کی مثال ایسی ہے جیسے گلاس کے اوپر لگی ہوئی مٹی۔ ایسی مٹی کو نہایت آسانی کے ساتھ پانی سے دھو کر صاف کیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ گلاس میں مٹی کا لگنا مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے پاس مٹی کو دھونے کے لیے صاف پانی نہ ہو۔ تالی ہمیشہ دو ہاتھ سے بجتی ہے، ایک ہاتھ سے کبھی تالی نہیں بجتی۔ اسی طرح دشمنی ایک دوطرفہ عمل ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کا دشمن بنے تو آپ خود اُس کے دشمن نہ بنیں۔ اس کے بعد دشمنی اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ دشمن کے ساتھ دشمنی نہ کرنا ہی دشمنی کے مسئلہ کا سب سے زیادہ کارگر عمل ہے۔ ہتھیار جمع کرنا بے فائدہ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک کامیاب تاجر ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میرا گھر شہر کے ایک ایسے کنارہ پر ہے جہاں سے غیر قوم کی آبادی شروع ہو جاتی ہے۔ میں نے سوچا کہ مجھے اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ میں نے پیسہ خرچ کر کے اپنے گھر کے ہر فرد کے لیے لائسنس بنوایا اور پھر گھر کے ہر فرد کے نام گن اور ریوالور حاصل کر لیا۔ اب میں اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو محفوظ سمجھتا ہوں۔ اب مجھے دنگے اور فساد کا کوئی ڈر نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ تجارت کا اصول جانتے ہیں مگر آپ سماجی زندگی کے اصول کو نہیں جانتے۔ سماجی تحفظ کا ذریعہ گن اور ریوالور نہیں ہے۔ سماجی تحفظ کا اصول یہ ہے کہ آپ دوسروں کے لیے بہترین پڑوسی بن کر رہیں۔ آپ دوسروں کو اپنے شر سے بچائیں۔ اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ آپ دوسروں کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ اگر آپ دوسروں سے نفرت کریں تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو نفرت ملے گی اور اگر آپ کے دل میں دوسروں کے لیے خیر خواہی ہو تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو محبت اور خیر خواہی کا تحفہ ملے گا۔

میں نے کہا کہ اگر آپ کے گھر کے سامنے غیر قوم کی بھیڑ اکٹھا ہو جائے اور آپ اپنی بالکنی پر کھڑے ہو کر اُس کے اوپر گولی چلا دیں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بس اتنے ہی پر معاملہ ختم ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page