Al-Risala · November 2002 · page

روزہ کی حقیقت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

روزہ کی حقیقت

روزہ کے لیے عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے معنی ہیں، رُکنا (abstlnance)۔ زندگی میں صرف اقدام کی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ رُکنا بھی زندگی میں ایک بے حداہم پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقدام اگر خارجی توسیع کی علامت ہے تو رُکنا داخلی استحکام کی علامت۔ اور زندگی کی حقیقی تعمیر کے لیے بلاشبہہ دونوں ہی یکساں طور پر ضروری ہیں۔

مشہور صحابی خالد بن الولید کو پیغمبرِ اسلام نے سیف اللہ کا لقب عطا کیا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کو یہ لقب کسی اقدام یا جنگی پیش قدمی پر نہیں دیا تھا۔ بلکہ آپ نے سیف اللہ کا لقب اُنہیں اُس وقت دیا تھا جب کہ غزوۂ موتہ کے موقع پر انہوں نے یک طرفہ طور پر اپنی تلوار میان میں رکھ لی تھی اور تمام صحابہ کو جنگ کے میدان سے ہٹا کر مدینہ واپس آگئے تھے۔ روزہ اس بات کا سبق ہے کہ تم چند دنوں کے لیے کھانا چھوڑ دو تا کہ تم بقیہ دنوں میں زیادہ اچھے کھانے والے بنو۔ تم چند دنوں کے لیے اپنی سرگرمیوں کو داخلی تعمیر کے محاذ پر لگا دو، تا کہ اس کے بعدتم زیادہ بہتر طور پر خارجی سرگرمی کے قابل بن جاؤ۔ چند دنوں کے لیے تم اپنے بولنے پر پابندی لگالو تا کہ اس کے بعد تم زیادہ بہتر بولنے والے بن سکو۔ چند دنوں کے لیے تم اپنے مقام پر ٹھہر جاؤ تا کہ اس کے بعد تم کامیاب پیش قدمی کے قابل بن سکو۔

روزہ کا مہینہ مومن کے لیے تیاری کا مہینہ ہے۔ اپنی سوچ کے معیار کو بلند کرنا، اپنی عبادت میں تقویٰ کی اسپرٹ بڑھانا، اپنی روحانیت میں اضافہ کر کے زیادہ سے زیادہ اللہ کی قربت حاصل کرنا، بھوک اور سیری کا تجربہ کر کے اپنے اندر شکر کا احساس جگانا، مادی مشغولیت کو کم کر کے آخرت کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ ہونا، خارجی سفر کو روک کر داخلی سفر کی طرف رواں دواں ہونا، ایک مہینہ کے تربیتی کورس سے گزر کر پورے ایک سال کے لیے شکر و تقویٰ کی غذا حاصل کر لینا، وغیرہ۔ یہی روزہ کا مقصد ہے اور یہی روزہ کی مقبولیت کا اصل معیار بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page