Al-Risala · November 2002 · page

ہجر جمیل

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

ہجر جمیل

قرآن مکی سورہ نمبر ۷۳ میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: واصبر علی ما یقولون واهجرهم هجراً جميلاً (المزمل ۱۰) اُردو مترجمین نے اس آیت کے جو ترجمے کئے ہیں اُن میں سے چند یہاں نقل کئے جاتے ہیں:

۱۔ اور سہتارہ جو کہتے رہیں اور چھوڑ اُن کو بھلی طرح کا چھوڑ نا (شاہ عبد القادر) ۲۔ اور یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں اُن پر صبر کر اور خوبصورتی کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاؤ۔ (اشرف علی تھانوی)

۳۔ اور سہتارہ جو کچھ وہ کہتے رہیں اور چھوڑ دے اُن کو بھلی طرح کا چھوڑ نا۔ (محمود حسن، دیو بندی) ۴۔ اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اُس پر صبر کرو اور اُن کو خوبصورتی سے نظر انداز کر۔ (امین احسن اصلاحی) اس آیت کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو وہ اس طرح ہوگا:

Endure patiently what ever they say, and avoid them in a decent manner. قرآن کی یہ آیت کی دور میں اُتری۔ اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رسول اور اصحاب رسول نے اُن کے آبائی دین سے انحراف کیا ہے۔ اس بنا پر وہ لوگ رسول اور اصحاب رسول کو ستانے لگے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔ اس ماحول میں قرآن کی یہ آیت اُتری۔ اس میں خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ صبر کرو اور ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کرو۔

ہجر جمیل کے لفظی معنی ہیں___ خوبصورتی کے ساتھ چھوڑ نا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ستانے والوں کے ساتھ حسن اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ ان کے معاملہ میں تمہارا طریقہ منفی رد عمل کا طریقہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ مثبت رد عمل کا طریقہ ہونا چاہئے۔ تم کو چاہئے کہ اُن کے معاملہ میں در گذر کرو اور اُن کے برے انداز کے مقابلہ میں تم اُن کے ساتھ اچھا انداز اختیار کرو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page