Al-Risala · November 2002 · page

عمومی صحبت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

ان سے متشددانہ ٹکراؤ شروع کر دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ بگاڑ کے زمانہ میں حکمرانوں سے ٹکرا کر شہید ہو جانے سے زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ اُن کے بگاڑ پر صبر کیا جائے اور یہ سب اُس وقت تک جاری رکھا جائے جب کہ انسان کی موت آجائے۔

اس حدیث میں ”صبر“ سے مراد بے عملی نہیں ہے بلکہ اُس سے مراد ایک عظیم ترین عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں سے نزاع کا طریقہ چھوڑ کر اپنے عمل کے لیے غیر نزاعی طریقہ ڈھونڈنا اور اُس پر کار بند ہو جانا۔ سیاسی نزاع کا طریقہ ہمیشہ بے صبری کی پیدا وار ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں نزاع کو ایوائڈ کرتے ہوئے عمل کرنا اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی اپنے جذبات پر کنٹرول کر کے صابرانہ انداز میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔

یہ ایک عظیم حکمت تھی جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو تلقین فرمائی، صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین نے اس حکمت کو سمجھا اور اُس پر بھر پور عمل کیا۔ اس کے نتیجہ میں دورِ اوّل میں وہ عظیم اسلامی کام انجام پایا جو مذکورہ صابرانہ سیاست کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے خلفائے راشدین کے بعد فورا سیاست میں بگاڑ آگیا۔ مسلم حکمراں شریعت کے مقرر راستے سے ہٹ گئے ۔ اُس زمانہ میں اگر اہل ایمان اپنے حکمرانوں سے متشددانہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتے تو اُس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پہلی اور دوسری نسل کے تمام بہترین لوگ قتل کر دیئے جاتے۔ ابتدائی نسل کے وہ تمام تاریخ ساز لوگ قبروں میں دفن ہو جاتے۔ اسلام کی وہ عظیم تاریخ بننے کی نوبت ہی نہ آتی جوان لوگوں کے ذریعہ بنی۔

مثلاً ابتدائی نسل کے یہی وہ لوگ ہیں جو سیاسی ٹکراؤ کے محاذ کو چھوڑ کر پر امن دعوت کے میدان میں سرگرم ہو گئے اور کروڑوں لوگوں کو اسلام کے دائرہ میں داخل کر دیا۔ انہوں نے دورِ پریس سے پہلے قرآن کی حفاظت اور اشاعت کا وہ عظیم کام انجام دیا جس کی مثال دوسری آسمانی کتابوں میں نہیں ملتی۔ انہوں نے لاکھوں حدیثوں کو جمع کر کے اُن کی چھان بین کی اور صحیح احادیث کے مجموعے تیار کر کے دنیا کو علم حدیث کا قیمتی تحفہ دیا۔ انہوں نے فقہ کی تدوین کا وہ عظیم

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page