Al-Risala · November 2002 · page

عمومی صحبت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

یہی معاملہ بعد کے علماء اور بزرگوں کا ہے۔ اُن میں سے کسی کی صحبت میں پر اسرار تاثیر نہیں۔ یہ معاملہ تمام تر صحبت میں بیٹھنے والوں اور وہاں کی باتیں سننے والوں کی اپنی استعداد پر منحصر ہے۔ جن افراد کے اندر مادہ قبولیت ہوگا وہ صحبت کا فائدہ حاصل کرسکیں گے۔ اور جن افراد کے اندر قبولیت کا مادہ نہ ہوگا وہ فائدہ سے محروم رہیں گے۔ اس تشریح کی روشنی میں صحابی کی زیادہ صحیح تعریف یہ ہونا چاہئے : جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالتِ ایمان میں دیکھا اور آپ کی صحبت سے استفادہ کیا اور اسی حال میں اُس کی موت ہوئی تو وہ صحابی ہے۔

عمومی صحبت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی صحبت جو اکثر مسجد میں یا کسی اور مجلس میں آپ کے اصحاب کو حاصل ہوتی تھی، اُس کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ آپ کی مجلسوں میں اصحابِ رسول کو کس طرح ذہنی تعمیر کی خوراک ملتی رہتی تھی۔

عن ابی ذر قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : كيف أنتم و ائمة من بعدی، يستأثرون بهذا الفئ، قلت : أما والذي بعثك بالحق، اضع سیفی علی عاتقی، ثم اضرب به حتی القاك، قال : اولا ادلك علی خیر من ذلك : تصبر حتی تلقانی (سنن ابی داؤد، كتاب السنة ؛ بحواله مشكاة المصابيح ۲/ ۱۰۹۵)

ترجمہ: ابو ذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس وقت تمہارا حال کیا ہو گا جب میرے بعد والے حکمران آئیں گے۔ وہ فئ(اموال (اموالِ حکومت) کو اپنے لیے خاص کر لیں گے۔ میں نے کہا کہ اُس خدا کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تلوار کو اپنے کندھے پر رکھوں گا اور پھر اس سے انہیں ماروں گا یہاں تک کہ میں آپ سے مل جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو اس سے زیادہ بہتر بات نہ بتاؤں۔ تم صبر کرو، یہاں تک کہ تم مجھ سے مل جاؤ۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد کے ذریعہ اپنے اصحاب کو ایک نئی فکری روشنی دی۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جب اپنے حکمرانوں میں بگاڑ دیکھتے ہیں تو وہ اصلاحِ سیاست کے نام پر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page