Al-Risala · November 2002 · page

توسیعی صحبت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

معك ملك يرد عنك فلما رددت عليه بعض قوله وقع الشيطان فلم أكن لأقعد مع الشيطان (مسند أحمد ۴۳۶/۲)

ترجمہ: ابو ہریرہ بتاتے ہیں کہ ایک شخص نے ابو بکر کے خلاف سب وشتم کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر متعجب ہوتے رہے اور تبسم فرماتے رہے۔ جب اُس آدمی نے بہت زیادہ سخت کلامی کی تو ابو بکر نے اُس کی بعض باتوں کا جواب دے دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور وہاں سے اُٹھ گئے۔ پھر ابو بکر چل کر اُن سے ملے ۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول! وہ آدمی مجھ کو سب وشتم کر رہا تھا اور آپ بیٹھے رہے۔ پھر جب میں نے اُس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو گئے اور وہاں سے اُٹھ کر چلے آئے۔ آپ نے فرمایا کہ پہلے تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے بول رہا تھا۔ پھر جب تم نے اُس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو (فرشتہ چلا گیا) اور شیطان آگیا۔ تو میں نے شیطان کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کیا۔ یہ اُس چیز کی ایک اعلیٰ مثال ہے جس کو ہم نے پیغمبر کے ذریعہ ملی ہوئی شعوری بیداری کہا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر دو قسم کی صفات ہوتی ہیں__ نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ۔ نفسِ امارہ شیطان کی علامت ہے اور نفسِ لوامہ فرشتے کی علامت۔ ایک آدمی آپ کو گالی دے اور آپ چپ رہیں تو گالی دینے والے کا نفسِ لوامہ بیدار ہو کر اندر ہی اندر اْس کو ملامت کرتا رہتا ہے۔ یہ گویا آپ کی طرف سے فرشتہ کا جواب دینا ہے۔ اس کے برعکس جب آپ ایسا کریں کہ سخت کلامی کے جواب میں آپ بھی سخت کلامی کریں تو دوسرے آدمی کا نفسِ امارہ متحرک ہو جائے گا۔ یہ آدمی کا شیطان کے زیرِ اثر آ جانا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس تلقین کے ذریعہ صحابہ کو ایک عظیم حقیقت بتائی۔ آپ نے صحابہ کے اندر وہ فکری روشنی پیدا کی جو ہر معاملہ میں اُن کی کامیابی کی ضامن بن جائے خواہ وہ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page