Al-Risala · November 2002 · page

توسیعی صحبت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد کے ذریعہ اہلِ ایمان کو ایک گہری سوچ عطا کی۔ آپ نے بتایا کہ ہر انسان کے اندر پیشگی طور پر دو مختلف قِسم کی شخصیتیں چھپی ہوئی ہیں۔ ایک تمہاری دشمن شخصیت اور دوسری تمہاری دوست شخصیت۔ یہ تمہارے اپنے اختیار میں ہے کہ تم فریقِ ثانی کو اپنا دوست بناتے ہو یا اپنا دشمن۔ اگر تم نے فریقِ ثانی کے نفسِ امّارہ کو جگایا تو اِس کی دشمن شخصیت تمہارے حصّہ میں آئے گی۔ اور اگر تم نے اُس کے نفسِ لَوّامہ کو جگایا تو اِس کی دوست شخصیت تمہارے حصّہ میں آئے گی۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اِس ارشاد کے ذریعہ اس اہم حقیقت کی طرف نشان دہی فرمائی کہ اس دنیا میں کچھ نہ کرنے کا نام بھی کرنا ہے اور کچھ نہ بولنے کا نام بھی بولنا۔ اگر ایک شُخص آپ کے خلاف سَبّ و شتم کر رہا ہے اور آپ جواب نہیں دیتے، تو اس کا مطلب سادہ طور پر یہ نہیں ہے کہ آپ نے جواب نہیں دیا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے خاموش رہ کر زیادہ طاقتور متکلم کو بولنے کا موقع دیا۔ یعنی خدا کے فرشتہ کو۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ آپ جو کام کم مؤثر انداز میں انجام دیتے، اُس کو خدا کے فرشتہ نے زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page