مسلم پالیسی کو بدلنے کی ضرورت
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲۶
مسلم پالیسی کو بدلنے کی ضرورت
اپریل ۲۰۰۲ء کے آخری ہفتہ میں مکہ میں رابطہ عالم اسلامی کی چوتھی عالمی کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف ملکوں کے مسلم علماء اور دانشور تقریباً پانچ سو کی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کا موضوع '' اسلام اور گلوبلائزیشن‘‘بتایا گیا ۔ اس کانفرنس کی ایک رپورٹ لاہور کے ماہنامہ محدث (مئی ۲۰۰۲) میں دیکھی ۔ اس کا ایک حصہ یہاں کسی قدر تصرف کے ساتھ نقل کیا جاتا ہے: بوسنیا کے رئیس العلماء مصطفیٰ سیرچ نے سابق صدر بوسنیا عزت بیگو وچ کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ ہم بوسنیا کے تلخ تجربہ کی روشنی میں یہ کہنا مناسب سمجھتے ہیں کہ عربوں کو اسرائیل سے صلح و آشتی کا راستہ اختیار کر لینا چاہئے۔ ڈاکٹر یوسف القرضاوی فوراً مائیک پر آئے اور نہایت شدید الفاظ میں عزت بیگو وچ کے اس نظریہ کی تردید کی۔ رپورٹ کے مطابق ، بظاہر پوری کانفرنس میں کوئی شخص بھی عزت بیگو وچ کی حمایت میں بولنے کے لیے کھڑا نہیں ہوا (صفحہ ۵۴)۔
جس زمانہ میں عزت بیگو وچ نے بوسنیا کے آزاد مسلم مملکت ہونے کا اعلان کیا اور اس کے نتیجہ میں وہاں خونی جنگ چھڑ گئی ، اُس وقت ساری مسلم دنیا میں عزت بیگو وچ ہیرو بن گئے۔ مگر آج یہی عزت بیگو وچ جب امن اور صلح کی بات کرتے ہیں تو اب وہ مسلمانوں کے یہاں زیرو بنے ہوئے ہیں۔ اس واقعہ پر غور کیجئے تو کچھ سبق آموز باتیں سامنے آئیں گی۔
۱۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان محصور ذہنیت (beseged mentality) میں جی رہے ہیں۔ اُن کے نا اہل دانشوروں اور لیڈروں نے اُنہیں یہ بتا رکھا ہے کہ وہ مظلوم ہیں اور دشمنوں کی سازش کا شکار ہو رہے ہیں۔ جو لوگ ایسی نفسیات میں مبتلا ہوں اُن کا حال یہ ہوگا کہ وہ لڑائی کی زبان تو سمجھیں گے مگر وہ صلح کی زبان سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔
۲۔ مسٹر عزت بیگو وچ نے جو پیغام بھیجا وہ ایک ادھورا پیغام تھا۔ اس بنا پر وہ کسی کے لئے قابل قبول
‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues