Al-Risala · November 2002 · page

مسلم پالیسی کو بدلنے کی ضرورت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

نہیں ہوسکتا تھا۔ عزت بیگو وچ کا پیغام اپنی موجودہ شکل میں صرف مجبوری کے ہم معنی ہے۔ اور کوئی بھی مسلمان مجبوری کے تحت کسی پالیسی کو اختیار کرنے پر راضی نہیں ہوگا۔ عزت بیگو وچ کو چاہیے کہ وہ مسلح اقدام کے بجائے پُر امن اقدام کا طریقہ دریافت کریں۔ اس کے بعد لوگوں کے لیے اُن کا پیغام قابل فہم اور قابل قبول بن جائے گا۔

۳۔ مکہ کی مذکورہ کانفرنس کی روداد کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں بولنے والے تمام مسلمان صرف شکایت اور احتجاج کی بولی بولتے رہے، وہ مسائل پر تقریریں کرتے رہے۔ یہی موجودہ زمانہ میں تمام مسلم کانفرنسوں کا حال ہے۔ ہر کانفرنس میں صرف مسائل کا پر شور تذکرہ ہوتا ہے۔ علماء اور دانشوروں کے اس مزاج نے موجودہ زمانہ کی تمام مسلم کانفرنسوں کو سراسر بے نتیجہ بنا دیا ہے۔ کانفرنس کا مقصد مواقع کار کی مثبت نشاندہی ہونا چاہیے، نہ کہ مسائل کے نام پر منفی چیخ و پکار، قرآن کے الفاظ میں، عُسر میں يُسر کی نشان دہی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کے تیرہویں سال مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اُس وقت آپ مسائل کے جنگل سے گزر کر وہاں پہنچے تھے۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے وہاں کے لوگوں کے سامنے جو پہلا خطبہ دیا وہ ابن ہشام نے اس عنوان کے ساتھ نقل کیا ہے: أول خطبة خطبها رسول الله صلى الله عليه وسلم في المدينة (رسول اللہ ﷺ کا پہلا خطبہ جو آپ نے مدینہ میں دیا)۔

یہ پورا خطبہ سیرت ابن ہشام میں آج بھی موجود ہے۔ اُس کو پڑھیے تو اُس میں ایک لفظ بھی شکایت اور احتجاج کا نہیں ملے گا۔ اس پورے خطبہ کا خلاصہ اُن کے اس جملہ میں ہے: اتقوا النار و لو بشق تمرة (اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو)۔ عجیب بات ہے کہ اسی رسول کے امتی آج رسول کی سنت کے برعکس شکایت اور احتجاج کی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ حتیٰ کہ مکہ اور مدینہ میں بھی یہی خلاف سنت کام نہایت دھوم کے ساتھ جاری ہے۔ کوئی اللہ کا بندہ اگر اُنہیں اس روش کو ترک کرنے کی نصیحت کرے تو وہ اُس کے دشمن

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page