Al-Risala · November 2002 · page 31

کھلی مذمت ضروری

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲، صفحہ ۳۱

گردی کی اصل ذمہ داری مسلم دشمنوں کی ہے، نہ کہ خود مسلمانوں کی۔

مذمت کے یہ طریقے یقینی طور پر غیر اسلامی ہیں۔ مذمت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ نہ صرف دہشت گردی کو خلاف اسلام بتایا جائے بلکہ مختلف مقامات پر جہاد کے نام پر جو دہشت گردی ہو رہی ہے اُس کو کھلے لفظوں میں رد کیا جائے اور کہا جائے کہ یہ جہاد نہیں ہے بلکہ فساد ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ کی یہی مجرمانہ خاموشی ہے جس کی بنا پر یہ ہو رہا ہے کہ جہاد کے نام پر ہونے والا تشدد کسی طرح ختم نہیں ہوتا۔ اس مجرمانہ تشدد میں خود ساختہ مجاہدین اگر براہ راست شریک ہیں تو بقیہ مسلمان بالواسطہ طور پر اس میں شریک ہیں۔ اور اسلامی نقطہ نظر سے، براہ راست شرکت اور بالواسطہ شرکت کے درمیان صرف ڈگری کا فرق ہے، اُن کے درمیان نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ ناکامی کا کیس امن کی طاقت تشدد کی طاقت سے زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ امن دانش مندوں کا طریقہ ہے اور تشدد نادانوں کا طریقہ۔ ایسی حالت میں جب کوئی شخص تشدد کرتا ہے تو وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے زیادہ طاقتور طریقہ استعمال کرنے میں ناکام رہا۔ اسی طرح ایسا آدمی اپنے متشددانہ عمل سے یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ وہ اپنے مسئلہ کو حل کرنے کے معاملہ میں ایک نادان آدمی ثابت ہوا، نہ کہ دانش مند آدمی۔

امن اور تشدد سادہ طور پر صرف دو طریقے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ انسانیت کے دو مختلف معیار ہیں۔ امن کا طریقہ اختیار کرنے والا آدمی اپنی انسانیت کو بلند کرتا ہے اور تشدد کا طریقہ اختیار کرنے والا آدمی اپنے آپ کو انسانیت کے اعلیٰ معیار سے نیچے گرا لیتا ہے۔

کوئی مسئلہ پیش آنے کے بعد جب ایک آدمی امن کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے اندر مثبت سوچ کو فروغ دیتا ہے۔ وہ اپنے اخلاقی معیار کو بلند کرتا ہے۔ وہ اپنی شخصیت کو بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ اپنے انسان ہونے کی حیثیت کو عملی طور پر ثابت شدہ بناتا ہے۔ اس کے برعکس جب ایک آدمی اپنے مسئلہ کے حل کے لیے تشدد کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو انسانیت کے نچلے درجہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page