Al-Risala · November 2002 · page

مذہب خطرہ میں ہے

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ اپنے انسان ہونے کی حیثیت کو عملی طور پر مشتبہ بنا رہا ہے۔ امن اور تشدد دونوں کسی انسان کی اصل حیثیت کی پہچان ہیں۔ ایک طریقہ اگر انسان کو انسان ثابت کرتا ہے تو دوسرا طریقہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک حیوان تھا، اگرچہ ظاہری طور پر وہ ایک انسان دکھائی دے رہا تھا۔

مذہب خطرہ میں ہے

نفرت اور تشدد کا ایک سبب وہ جذباتی سیاست ہے جو اس نعرہ پر چلتی ہے کہ مذہب خطرہ میں ہے۔ کچھ لکھنے اور بولنے والے لوگ غلط یا مبالغہ آمیز تصویر پیش کرکے عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ اُن کا مذہب دوسروں کی طرف سے خطرہ میں ہے۔ اب تحفظ مذہب کے نام پر جلسہ اور جلوس اور نعرے اور جھنڈے کی سیاست چل پڑتی ہے۔ یہ سیاست مذہب کو تو خطرہ سے نہیں بچاتی البتہ مذہب کو خطرہ سے بچانے کے نام پر پورے سماج کے امن کو تباہ کرکے اُس کو خطرہ میں ڈال دیتی ہے۔ اگر مذہب خطرہ میں ہو تو ظاہر ہے کہ کوئی غیر ہوگا جو مذہب کو خطرہ میں ڈالے ہوئے ہوگا۔ اس طرح ”مذہب خطرہ میں‘‘ جیسی سیاست ایک گروہ کے دل میں دوسرے گروہ کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے۔ پھر نفرت کی سیاست سے جب مذہب کے خلاف مفروضہ خطرہ نہیں ہوتا تو اس کے بعد لوگوں کے اندر مایوسی کی سیاست شروع ہوتی ہے۔ مایوسی کی سیاست اپنی آخری تدبیر کے طور پر تشدد کی سیاست جاری کر دیتی ہے۔ پھر جب تشدد کی سیاست کارگر ثابت نہیں ہوتی تو خودکشی کی سیاست شروع ہو جاتی ہے۔ جوش میں بھرے ہوئے نوجوان اپنی بڑھی ہوئی نفرت کو اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف خودکش بمباری کی صورت میں انڈیل دیتے ہیں۔ مذہبی خطرہ کی سیاست اپنی آخری حد پر پہنچ کر مذہبی خودکشی کی سیاست بن جاتی ہے۔ زندگی کے نام پر اُٹھنے والے لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے صرف موت کا پیغام ثابت ہوتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس تباہ کن سیاست سے نکلنے کا واحد حل یہ ہے کہ تشدد کو ایک ایسا فعل قرار دیا جائے جو ہر حال میں قابل ترک ہو۔ کوئی بھی عذر، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی بڑا ہو، تشدد کے طریقہ کو

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page