Al-Risala · November 2002 · page

برداشت کی ضرورت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

سماج کے لوگوں میں برداشت کا مزاج نہ ہو وہاں تشدد ہونے لگے گا۔ اور تشدد نہ تشدد کرنے والے کے لیے مفید ہے اور نہ اُن لوگوں کے لیے مفید جن کے اوپر تشدد کیا گیا ہے۔

برداشت ایک اعلیٰ اخلاقی اور انسانی صفت ہے۔ اس کے مقابلہ میں برداشت نہ کرنا ایک حیوانی صفت ہے۔ برداشت مجبوری نہیں، برداشت ایک اعلیٰ ترین عمل ہے۔ لوگ جس مقصد کو بے برداشت طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کو برداشت کے ذریعہ زیادہ بہتر طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ کوئی ناخوش گوار صورت حال پیش آنے پر آدمی جب بے برداشت ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو مقابلہ کے لیے کمزور کرلے گا۔ لیکن جب وہ ناخوش گوار صورت حال میں برداشت کے رویہ پر قائم رہے تو وہ اپنی ساری طاقتوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ زیادہ مؤثر طور پر پیش آمدہ صورت حال کا مقابلہ کرسکتا ہے۔

ناخوش گوار صورت حال پیش آنے کے باوجود بے برداشت نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر یہ طاقت ہو کہ وہ اپنے آپ پر کنٹرول کر سکے، وہ اتنا زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے کہ کسی کے لیے بھی اُس کو شکست دینا ممکن نہیں۔ امن کے فائدے دنیا کے تمام اچھے کام پر امن کوشش کے ذریعہ ہوئے ہیں۔ تشدد کی طاقت سے کبھی کوئی اچھا کام نہیں ہوا۔ کوئی پل، کوئی سڑک کبھی بھی تشدد کی طاقت سے نہیں بنے۔ سائنس کی دریافتیں اور ٹکنالوجی کی ترقیاں کبھی تشدد کی طاقت سے ظہور میں نہیں آئیں ۔ تعلیم گاہیں اور تحقیق کے ادارے کبھی تشدد کی طاقت سے نہیں بنے۔ لوہے کا مشین میں ڈھلنا یا سٹی پلاننگ جیسے کام امن کے ذریعہ انجام پائے، نہ کہ تشدد کے ذریعہ۔ سماجی فلاح سے لے کر انفراسٹرکچر تک ہر کام ہمیشہ پر امن تدبیروں کے ذریعہ تکمیل پذیر ہوئے ہیں۔

تشدد ایک تخریبی عمل ہے۔ اور ایک تخریبی عمل کے ذریعہ کبھی کوئی تعمیری واقعہ ظاہر نہیں ہوسکتا۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اور فطرت کے قانون میں تبدیلی ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page