Al-Risala · November 2002 · page

زمانہ کے خلاف

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

دوروں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ تلوار جب چلائی جاتی تھی تو وہ صرف ایک دشمن کی گردن کو کاٹتی تھی۔ اب بم کے زمانے میں جنگ کا مطلب یہ نہیں۔ اب جنگ کا مطلب صرف تباہی ہے۔ جو بم دشمن کے اوپر ڈالا جاتا ہے وہ مختلف پہلوؤں سے خود ڈالنے والے کے لیے بھی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ ایسی حالت میں جنگ ایک بے فائدہ عمل بن چکی ہے۔ اب جنگ ایک دیوانگی ہے، نہ کہ کسی مقصد کے حصول کے لیے اقدام۔

حقیقت یہ ہے کہ نئے ہتھیاروں کے ظہور کے بعد جنگ اب ایک قابل ترک چیز بن چکی ہے۔ جب جنگ مثبت معنوں میں بے نتیجہ ہو جائے تو ایسی حالت میں جنگ چھیڑنا ایک دیوانگی ہے، نہ کہ عقل مندی۔

زمانہ کے خلاف

موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن (globisation) کا زمانہ ہے۔ ساری دنیا ایک گلوبل ویلج کی مانند ہو گئی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو موجودہ زمانہ میں تشدد یا مسلح جدوجہد ایک ایسی چیز بن چکی ہے جو زمانہ کے خلاف عمل (anachronism) کی حیثیت رکھتی ہے۔

موجودہ زمانہ میں جو لوگ ہتھیار کی لڑائی لڑ رہے ہیں اُن سے پوچھیے کہ وہ کیوں جنگ کر رہے ہیں تو وہ بتائیں گے کہ قائم شدہ حکومت کو بدلنے کے لیے وہ جنگ کر رہے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ ہم ایک نیا نظام بنانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے حکومت پر قبضہ کرنا ضروری ہے۔ مگر یہ بات صرف زمانہ سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔

موجودہ زمانہ میں ایسی تبدیلیاں ہو چکی ہیں کہ اب کسی کو حکومت پر قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ حکومت پر قبضہ کئے بغیر ہر وہ کام کر سکتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔

برداشت کی ضرورت

عدم برداشت کا نتیجہ تشدد ہے، اور برداشت کا نتیجہ امن۔ انہی دو لفظوں میں امن اور تشدد کا خلاصہ پایا جاتا ہے۔ جس سماج میں برداشت کی صفت ہو، اس سماج میں امن کا ماحول رہے گا۔ اور جس

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page