سکون کا سر چشمہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲، صفحہ ۵
سوالات (روزنامہ ہندوستان، ممبئی)
گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ جو ہوا اور ہورہا ہے، عین ممکن ہے کہ فرقہ پرستوں کی اس کامیابی کے بعد دیگر ریاستوں میں بھی اسے دہرایا جائے۔ مسلمان ہنوز منتشر ہیں تو کیا سیاسی، سماجی، تہذیبی، معاشی گویا ہر سطح پر یہ بات مسلمانوں کے لئے نقصان دہ نہیں ہے، اگر ہے تو ان حالات میں مسلمان اب کیا کریں۔ گجرات یا ملک کے دیگر حصوں میں جب جب اور جہاں بھی فسادات ہوئے اور ہورہے ہیں وہاں پر فرقہ پرستوں نے یہ نہیں دیکھا کہ کون دیوبندی، بریلوی، یا شیعہ اور اہل حدیث ہے بلکہ بنام ’’مسلم‘‘ سب کی جان و مال کو نقصان پہنچایا اور انہیں معاشی طور پر تباہ و برباد کیا، تو کیا اب بھی مسلکی اختلافات سے چمٹے رہنا مسلمانوں کے لئے نقصان دہ نہیں ہے؟ اگر ہے تو کیا اس کے لئے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھانا چاہئے۔ آج ملّت اسلامیہ کی بقاء کا مسئلہ کھڑا ہے۔ ایسے حالات میں ملّت اسلامیہ کی بقاء کیوں کر ممکن ہے؟ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں سر گنے جاتے ہیں۔ اس بات کو سمجھتے ہوئے بھی ہم مسلکی اختلافات کی بنا پر بوقت الیکشن مختلف الرائے ہو کر اپنی صفوں کو کمزور اور غیروں کی صفوں کو مضبوط بنا دیتے ہیں، تو کیا یہ مفادِ ملّت کے خلاف نہیں ہے، اس سلسلہ میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔ یہودونصاریٰ مسلمانوں اور اسلام کے کٹّر دشمن ہیں، قرآن و احادیث میں بھی اس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مگر ہمارے یہاں سب سے زیادہ اہمیت مسلکی اختلافات اور فرقہ بندی کو دی جاتی ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی امت میں تہتر ۷۳ فرقے بننے اور ان میں سے صرف ایک کے جنت میں جانے کی پیشین گوئی ضرور کی ہے مگر باقی دیگر کو اپنی امت کہا ہے، اسلام دشمن نہیں۔ ایسی صورت میں اسلام کے سب سے بڑے دشمن کون۔ آیا وہ یہودونصاریٰ جو کہ دنیا میں اسلام کے وجود کو ہی نہیں پسند کرتے یا پھر وہ کلمہ گو جو دیگر مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔
اگر انتشار سے ملّت کو نقصان ہورہا ہے تو اسلام میں اس کا کیا حل ہے۔
اللہ اور اس کے رسول نے اجتماعی زندگی کو پسند کیا ہے۔ ملّت کو یکجا رکھنے کا کتنا احسن طریقہ اتحاد ہمیں دیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دن میں پانچ بار اور ہفتے میں ایک بار اور پھر عیدین کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues