Al-Risala · November 2002 · page 6

سکون کا سر چشمہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲، صفحہ ۶

موقعوں پر پوری ملت اسلامیہ مسجدوں میں یکجا ہوتی ہے جہاں پر امام کے ذریعے اپنی صفوں کو سیدھا رکھنے کی تاکید کی ہے۔ اگر علماء کرام اس کی اہمیت کو سمجھ لیں اور اسے اپنا مرکز بنا کر اس اسلامی منشور پر عمل پیرا ہو جائیں تو کسی شور و غل کے بغیر پوری ملت بقائے باہم کے لیے یکجا ہوسکتی ہے جس کا اثر یہ ہوگا کہ ملک میں فرقہ پرستوں کی ہوا اکھڑ جائے گی اور تب ہم مظلوم نہیں بلکہ بادشاہ گر ہوں گے، مگر ایسا نہیں ہے۔ آخر آپ لوگ مسجدوں سے ملت کو یکجا کرنے کی تلقین کیوں نہیں کرتے۔

۸- ہندوستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان ہی سب سے بڑی قوم ہیں۔ آپ انہیں بنام مسلم باہم متحد کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل کیوں نہیں بناتے جس سے قوم طاقتور بنے۔ مگر اس کے بجائے آپ لوگ انہیں منتشر کرنے میں پوری طاقت لگاتے ہیں، ایسا کیوں۔

۹- عام خیال یہ ہے کہ مسلمانوں میں انتشار کے لئے علماء ذمہ دار ہیں، کیا یہ سچ ہے۔ ۱۰- میں سمجھتا ہوں کہ ملی اتحاد کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ذاتی مفادات ہیں۔ آپ کی نظر میں ذاتی مفادات پر ملی مفاد کی کیا اہمیت ہے۔

۱۱- آپ کے نزدیک علماء کے لئے سب سے زیادہ اہمیت کس بات کو دینی چاہئے، مذہبی فرائض کی ادائیگی کو یا پھر محض دنیاوی مفاد کے لئے سیاستدانوں کا آلۂ کار بننے کو۔

۱۲- کیا ایک عالم کو سیاست میں حصہ لینا چاہئے۔

۱۳- مصیبتیں ہیں جس میں سے ایک چھوٹی اور دوسری بڑی ہے۔ اگر چھوٹی مصیبت کو گلے لگانے سے بڑی مصیبت سے بچا جا سکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں کیا کیا جائے۔ آیا منتشر رہ کر ملت کو بھیڑیوں کا چارہ بننے دیں یا پھر دیگر مکتب فکر کے ساتھ متحد ہو کر اس بڑی مصیبت کا مقابلہ کریں۔ ۱۴- خلفائے راشدین کو مذہب اسلام میں بنیاد یا ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ کیا ان کا بھی کوئی مسلک تھا۔ صحابہ کرام کس مسلک سے وابستہ تھے۔ اگر وہ صرف اور صرف اسلامی قالب میں ڈھلے تھے تو پھر مسالک کو بنیادی حیثیت کیوں دی گئی۔ کیا مسلمان صرف اور صرف حضور اکرم ﷺ کے دور کا مسلمان رہ کر صحیح اور سچا مسلمان نہیں کہلا سکتا ہے (صلاح الدین جوہر انصاری)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page