جوابات
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲، صفحہ ۸
۳۔ میرے نزدیک یہ کہنا صحیح نہیں کہ آج ملتِ اسلامیہ کی بقاءء کا مسئلہ درپیش ہے۔ ملتِ اسلامیہ کا تحفظ حاصل ہے اور قیامت تک وہ بہر حال محفوظ رہے گی۔ میرے نزدیک جس چیز کی بقا کا مسئلہ درپیش ہے وہ ملتِ اسلامیہ نہیں ہے بلکہ وہ طریق کار ہے جو موجودہ زمانہ میں کچھ خود ساختہ لیڈروں کی رہنمائی میں اختیار کیا گیا۔ اور وہ پُر تشدد طریق کار ہے۔ میرے نزدیک تقریباً دوسوسال سے مسلمان جہاد کے نام پر پُر تشدد طریق کار اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ طریق کار اب آخری طور پر ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ اب وہ پوری طرح پُر امن طریق کار کو اختیار کر لیں ۔ پُر تشدد طریق کار کو وہ مکمل طور پر چھوڑ دیں، براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی، لفظی بھی اور عملی بھی۔
۴۔ میرے نزدیک الیکشن میں علیحدہ سیاسی محاذ آرائی مسلمانوں کے لئے تباہ کن ہے۔ اس قسم کی جداگانہ سیاست کو اُنہیں مکمل طور پر چھوڑ دینا چاہئے ۔ میرے نزدیک جداگانہ تشخص کا تعلق مذہب سے ہے۔ جہاں تک الیکشنی سیاست کا تعلق ہے، اِس کو قومی ہونا چاہئے، مسلمانوں کے لیے بھی اور دوسرے فرقوں کے لیے بھی۔
۵۔ یہ بات اصولاً غلط ہے کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ قرآن و حدیث میں جن یہود و نصاریٰ کا ذکر ہے وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر یہود و نصاریٰ ہیں، نہ کہ ہر زمانہ کے یہود و نصاریٰ ۔ میرے نزدیک مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن خود وہ مسلمان ہیں جو دوسری قوموں کو اسلام دشمن بتا کر مسلمانوں کے دلوں میں اُن کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں۔ اسلام کا طریقہ، اسلام دشمنوں کی نشاندہی کرنا نہیں ہے بلکہ دشمنوں کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کر کے اُنہیں اپنا دوست بنانا ہے۔ (فصلت ۳۴)
۶۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں جو تفریق اور انتشار پایا جاتا ہے، اُس کا سبب میرے نزدیک صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے، اختلاف اور تنقید پر غیر ضروری حساسیت۔ اس مسئلہ کا حل اختلاف اور تنقید کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اختلاف اور تنقید کے بارے میں اپنی غیر فطری حساسیت کو ختم کرنا
‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues