Al-Risala · November 2002 · page 7

جوابات

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲، صفحہ ۷

جوابات

١۔ اس معاملہ میں کیا کریں، کا جواب یہ نہیں ہو سکتا کہ ہندوستانی مسلمان اپنا الگ سیاسی محاذ بنائیں۔ وہ ملی اتحاد کے مظاہرے کریں۔ وہ احتجاج اور مطالبہ کی مہم چلائیں۔ وہ اپنی مظلومیت اور دوسروں کے ظلم کا اعلان کریں۔ وہ تقریر اور تحریر کے ہنگامے جاری کریں۔ اس قسم کی تدبیریں پچھلے ۵۵ سال کے عرصہ میں بہت بڑے پیمانہ پر عمل میں لائی گئی ہیں اور وہ مکمل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔

اب مسلمانوں کے لیے کرنے کا صرف ایک ہی کام باقی ہے جس کا ابھی تک عملی تجربہ نہیں کیا گیا، اور وہ دعوت ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کا حل ہمیشہ دعوت کے ذریعہ ہوا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میں چھپا ہوا ہے (المائدہ ٦٧) اس میں کوئی شک نہیں کہ دعوت مسلمانوں کے مسائل کا یقینی حل ہے۔ دعوت اپنے اندر تسخیری طاقت رکھتی ہے۔ مگر دعوتی عمل کو انجام دینے کی ایک لازمی شرط ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں، بالفاظ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان، نفرت اور کشیدگی کو یک طرفہ اعراض کے ذریعہ مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ تا کہ دونوں کے درمیان دعوت کا ماحول قائم ہو۔ شکایت و احتجاج کی بات کرنا اور اسی کے ساتھ دعوت کا نام لینا ایک مسخرہ پن ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوتی عمل۔

٢۔ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، وغیرہ کے درمیان موجودہ قسم کے مسلکی اختلافات ہر حال میں غلط ہیں۔ فسادات ہوں یا نہ ہوں، انہیں بہر حال ختم ہونا چاہئے۔ جن چھوٹے چھوٹے اختلافات پر یہ گروہ بندیاں کی گئی ہیں وہ دور اول میں بھی موجود تھے لیکن وہ گروہ بندی کا سبب نہیں بنے۔ ان انتہا پسندانہ اختلافات کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) ہے۔ یعنی اساسی باتوں پر زور دینے کے بجائے جزئی باتوں پر زور دینا۔ اس برائی کو ہر حال میں ختم ہونا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page