Al-Risala · December 2002 · page 8

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۸

تعلق مکمل طور پر انسان کی نیت سے ہے اور نیت کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ اس لیے کسی فرد یا گروہ کو کافر (منکر) قرار دینا صرف اللہ عالم الغیب کا حق ہے۔ اس مفہوم کے اعتبار سے کوئی ایک نسل کافر (منکر) ہوسکتی ہے جس پر اتمام حجت کیا گیا ہو۔ اُس کی بعد کی نسلوں پر پھر بھی اس لفظ کا اطلاق نہیں ہوگا۔

ی وجہ ہے کہ ظہورِ اسلام کے بعد ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے کبھی کسی قوم کو کافر کا لقب نہیں دیا، وہ اُنہیں ان کے معروف نسبتی نام سے پکارتے رہے۔ یہ زبان پچھلے دو سو سال کے دوران استعمال ہوئی ہے جب کہ مسلمانوں کو غیر مسلم قوموں کے مقابلہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ در حقیقت موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی طرف سے احساس نفرت کا اظہار تھا، نہ کہ احساس دینی کا اظہار۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ ظہورِ اسلام کے بعد ایک ہزار سال تک مسلمان اپنے دورِ دعوت میں تھے اور اب وہ اپنے دورِ نفرت میں ہیں۔ کافر اور دشمن کے الفاظ در اصل مذہب نفرت کی پیداوار ہیں، نہ کہ مذہبِ اسلام کی پیدا وار۔

خونریزی اسلام کی تعلیم ہی نہیں۔ اسلام کی تمام تعلیمات امن اور انسانی خیر خواہی پر مبنی ہیں۔ اس مسئلہ پر اسلام کے نقطہ نظر کو میں نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جو ماہنامہ الرساله اکتوبر ۲۰۰۲ ”امن کلچر“ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔

۲۔ جہاد کا لفظی مفہوم کوشش یا جد و جہد ہے۔ اس سے مراد اسلام کے دعوتی مقصد کے لیے پر امن جد و جہد کرنا ہے۔ جہاد کا کوئی بھی براہ راست تعلق جنگ سے نہیں۔

قرآن میں جنگ کے لیے قتال کا لفظ آیا ہے۔ مگر قرآن کے مطابق ، قتال کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غیر مسلموں پر مسلمانوں کا غلبہ قائم کرنے کے لیے جنگ کی جائے۔ اس قسم کی جنگ قرآن کے مطابق ، نہ جہاد ہے اور نہ قتال۔ بلکہ وہ ایک قومی سرکشی ہے جس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کی جنگ فساد ہے، نہ کہ جہاد۔ جو نظریہ یہ سرے سے درست ہی نہ ہو اُس کی تشہیر کیوں کر معقول ہو سکتی ہے۔ ۳۔ یہ سراسر الزام ہے کہ اسلام میں نوع انسانی کو مسلم و کافر میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قرآن

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page