جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۹
میں بار بار ایہا الانسان اور ایہا الناس کا لفظ استعمال ہوا ہے جن کی مجموعی تعداد قرآن میں ۳۱۵ ہے۔ اس سے اور دوسری قرآنی آیتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کی اصل حیثیت صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ وہ انسان ہیں۔ تمام لوگ بنی آدم ہونے کی حیثیت سے یکساں طور پر بنی آدم کا حصہ ہیں۔ ان میں سے جن لوگوں کو خدائی حق کی معرفت ہو جائے اور وہ اُس کو قبول کر لیں تو وہ اللہ کے نزدیک مومن قرار پائیں گے۔ ہند وسماج کے ذہن میں اس سلسلہ میں جو غلط فہمی پیدا ہوئی ہے اُس کا سبب اسلام کی حقیقی تعلیمات فہمیں ہیں بلکہ کچھ مسلمانوں کی غلط نمائندگی ہے۔ چنانچہ جو ہندو مسلمانوں کی روش سے قطع نظر کر کے براہ راست طور پر اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں وہ کبھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہوتے۔ اس معاملہ کی ایک مثال ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیا ہیں۔ ان کا پورا واقعہ خود انہی کے الفاظ میں، راقم الحروف کی کتاب اسلام ری ڈسکورڈ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ہندوستان میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوئے یا ہو رہے ہیں، اُن کا کوئی بھی تعلق اسلام کی تعلیمات سے نہیں ہے۔ وہ براہ راست طور پر دو قومی سیاست اور تقسیم ملک کی غیر فطری تحریک کا نتیجہ ہیں۔ اس کا سادہ ثبوت یہ ہے کہ اس غیر فطری اور غیر دانش مندانہ تحریک سے پہلے تقریبا ہزار سال تک ہندو اور مسلمان برصغیر ہند میں مل جل کر رہتے تھے۔ اُن کے درمیان کبھی وہ چیز مشاہدہ میں نہیں آئی جس کو آج کل فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے۔ یہ فرقہ وارانہ فساد یقینی طور پر تقسیم کے غیر فطری عمل کا نتیجہ ہے، نہ کہ اسلام کی تعلیم کا نتیجہ۔
سوال نامہ میں قرآن کی ۹ آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اعتراض کرنے والے انہی آیتوں کو لے کر اعتراض کرتے ہیں۔ مگر یہ تمام اعتراضات صرف غلط نہی پر مبنی ہیں۔ ان محولہ آیتوں کا جواب مختصر طور پر یہاں درج کیا جاتا ہے۔
(الف) قرآن میں نجَس کا لفظ صرف رسول کے اُن معاصر لوگوں کے بارے میں آیا ہے جنہوں نے ناجائز طور پر بیت اللہ میں ۳۶۰ بُت رکھ دیئے تھے۔ اُن کے بارے میں کہا گیا کہ آئندہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues