صلح حدیبیہ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۴
صلح حدیبیہ
صلح حدیبیہ کیا ہے۔ صلح حدیبیہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ جب یہ صلح ہوئی تو اس کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری: انا فتحنا لک فتحاً مبینا۔ یعنی یہ صلح تمہارے لیے فتح کی ایک یقینی ضمانت ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنا مشن ۶۱ھ میں شروع کیا۔ آپ کا یہ مشن توحید کا مشن تھا۔ اُس وقت عرب میں بہت سے مشرک لوگ رہتے تھے۔ یہ لوگ آپ کے مشن کو پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ یہ لوگ آپ کے سخت مخالف بن گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ کے خلاف لڑائی چھیڑ دی۔ کئی سال تک لڑائی کا ماحول قائم رہا۔ لڑائی کے ماحول کی بنا پر دعوت اور تعمیر کا کام معتدل طور پر جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔ اس ناموافق ماحول کو ختم کرنے کے لیے پیغمبر اسلام نے اپنے مخالفین سے صلح کی بات چیت شروع کر دی۔ یہ بات چیت حدیبیہ کے مقام پر ہوئی۔ وہ لوگ کڑی شرطیں پیش کرتے رہے۔ دو ہفتہ کی بات چیت کے بعد پیغمبر اسلام نے یہ کیا کہ اپنے مخالفین کی پیش کی ہوئی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مانتے ہوئے ان سے امن کا معاہدہ کر لیا اور اس طرح جنگ کی حالت کو موقوف کر دیا۔ اور اپنے اور مخالفین کے درمیان امن کی حالت قائم کر دی۔
اس معاہدہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل اسلام کو دعوت و تعمیر کے مواقع حاصل ہو گئے۔ چنانچہ مثبت تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہو گیا۔ اس کے بعد صرف دو سال کے اندر اسلام کو اتنا زیادہ استحکام حاصل ہوا کہ جلد ہی خون بہائے بغیر پورے عرب میں اسلام کا غلبہ قائم ہو گیا۔
صلح حدیبیہ کوئی منفرد قسم کا واقعہ نہیں، یہ فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی فرد یا قوم تنہا نہیں ہے، بلکہ یہاں دوسرے بہت سے لوگ ہیں۔ ہر ایک کا انٹرسٹ الگ الگ ہے۔ اس بنا پر بار بار ایک اور دوسرے کے درمیان مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues