صلح حدیبیہ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۵
ایسی حالت میں صرف دو ممکن صورتیں ہیں ۔ مسائل سے ٹکراؤ شروع کر دینا یا مسائل سے اعراض کرتے ہوئے آگے بڑھ جانا۔ پہلا طریقہ جنگ کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ صلح کا طریقہ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: والصلح خیر (النساء ۱۲۸)۔ یعنی صلح کا طریقہ زیادہ مفید ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قرآنی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے صلح حدیبیہ کا معاملہ کیا جو اسلام کے لئے فاتحانہ صلح ثابت ہوئی۔
صلح یا ایڈجسٹمنٹ کا یہ طریقہ خود فطرت کا طریقہ ہے۔ مثال کے طور پر ایک بہتے ہوئے چشمہ کو لیجئے ۔ آپ دیکھیں گے کہ چشمہ کے راستہ میں جب بھی کوئی پتھر آتا ہے تو وہ پتھر کو توڑنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ پتھر کے کنارے سے راستہ نکال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص سڑک پر اپنی گاڑی دوڑاتا ہے تو وہ سامنے کی طرف سے آنے والی گاڑی سے ٹکراؤ نہیں کرتا۔ وہ کنارے کی طرف مڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
اسی مصالحانہ طریقہ کا نام حدیبیہ ہے۔ حدیبیہ کے طریقہ کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔ مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو۔ یہ ایک ابدی اصول ہے جس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔ خاندان کا معاملہ ہو یا سماج کا معاملہ، یا کوئی بین اقوامی معاملہ، ہر جگہ کامیاب زندگی کا یہی واحد اصول ہے۔ صلح حدیبیہ کا طریقہ چھوڑنے کا انجام صرف ٹکراؤ ہے اور ٹکراؤ سے کوئی مسئلہ کبھی حل نہیں ہوتا۔ صلح حدیبیہ کا طریقہ اگر زندگی ہے تو ٹکراؤ اور جنگ کا طریقہ صرف موت۔
صلح حدیبیہ کا طریقہ موجودہ دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ یہ طریقہ آدمی کو منفی سوچ سے ہٹا کر مثبت سوچ کی طرف لاتا ہے۔ وہ آدمی کو اس نقصان سے بچاتا ہے کہ وہ ٹکراؤ میں وقت ضائع کرتا رہے اور ممکن دائرہ میں موجود مواقع کو استعمال نہ کر سکے۔ صلح حدیبیہ کا طریقہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے ڈس ایڈوانٹیج کو ایڈوانٹیج میں تبدیل کرلے۔ وہ اپنے مائنس کو پلس بنا سکے۔ وہ اپنے نہیں میں ہے کا راز دریافت کرلے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues