Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

اس کی مثال ایسی ہے کہ آپ نے چند دن کے لئے کسی شخص کو اپنے گھر میں مہمان رکھا۔ اب اگر وہ سمجھ لے کہ وہ اس گھر کا مالک ہے اور اس احساس کے ساتھ وہ گھر کی چیزوں کو بے قید طور پر استعمال کرنے لگے اور گھر کے اندر چیزوں کا جو نظم ہے اس کو بگاڑ ڈالے تو وہ مہمان نہ رہے گا بلکہ مجرم بن جائے گا۔

اسی طرح موجودہ دنیا گویا خدا کا ایک عالمی گسٹ ہاؤس ہے۔ انسان کو خدا نے اس گسٹ ہاؤس میں محدود مدت تک رہنے کی اجازت دی ہے۔ انسان اگر اصل مالک کی مرضی کے مطابق، یہاں رہے اور گیسٹ ہاؤس کے نظام میں خلل ڈالے بغیر اس کو استعمال کرے تو یہ اس کا جائز حق ہوگا، لیکن اگر وہ خود اپنے آپ کو اس عالمی گسٹ ہاؤس کا مالک سمجھنے لگے اور اس کے اندر قائم کئے ہوئے نظام کو درہم برہم کر دے تو اس کی حیثیت ایک ایسے مجرم کی ہو جائے گی جس کو انعام دینے کے بجائے ذلّت کی سزا دی جائے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو ماحولیاتی مسئلہ موجودہ زمانہ میں پیدا ہوا ہے اس کو قرآن میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں قرآن کی یہ آیت بے حد اہم ہے: ظہر الفساد في البر والبحر بما كسبت ايدي الناس لیذیقھم بعض الذي عملوا لعلھم يرجعون (الروم (۴۱) یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تاکہ اللہ مزا چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں ۔

اس آیت میں عین انہی ماحولیاتی مسائل سے پیشگی طور پر خبر دار کیا گیا ہے جو آج انسان کو درپیش ہیں۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، جو ماحولیاتی مسائل آج پیش آرہے ہیں، انسان کو چاہئے کہ وہ ان ماحولیاتی مسائل کو وارننگ کے طور پر لے اور اپنی روش میں اصلاح کر کے دنیا کو دوبارہ اس اصلاحی حالت کی طرف لے جائے جو کہ صنعتی دور سے پہلے تھی۔

سوال

آپ نے الرساله ماه جون ۲۰۰۲ میں لکھا ہے کہ : اسی طرح گجرات میں جن لوگوں نے جگہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page