جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲
کل کے زمانہ میں ساری دنیا میں اس مسئلہ کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مسئلہ پر بہت زیادہ سوچ بچار ہو رہا ہے۔ اگر ممکن ہو تو بتائیں کہ اسلام میں اس مسئلہ کے بارے میں کیا روشنی ڈالی گئی ہے۔ (کرس فلپاٹ (Chris Philpott) برمنگھم)
جواب
ماحولیات کا مسئلہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فطرت کا قائم کیا ہوا نظام بگڑ جائے۔ ائر پولیوشن، واٹر پولیوشن، گلوبل وارمنگ، وغیرہ مسائل اس لئے پیدا ہوئے کہ جدید انڈسٹری یا جدید مشینی تہذیب کی وجہ سے فطرت کا بنایا ہوا نظام اپنی اصل حالت پر قائم نہ رہا، اس میں بگاڑ آگیا۔ اس معاملہ میں قرآن کی رہنمائی اس اصول پر قائم ہے کہ فطرت کے قائم شدہ نظام کو درہم برہم نہ کرو۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نے دنیا کی ہر چیز معین مقدار میں بنائی (الحجر 19) اسی طرح قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ خدا نے دنیا کا نظام کس طرح کامل انداز میں بنایا کہ تم اس کے اندر کوئی نقص نہیں پا سکتے (الملک ۳) اسی حقیقت کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن میں انسان کو یہ حکم دیا گیا: لا تفسدوا فى الارض بعد اصلاحھا (الاعراف (۵۶) یعنی زمین میں فساد نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد۔ اس طرح کی مختلف آیتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے ہماری دنیا کو انتہائی متوازن(balanced) صورت میں بنایا ہے۔ اس کی ہر چیز انتہائی صحیح تناسب (right proportion) میں ہے۔ خدا جو اس دنیا کا مالک ہے اس نے اس دنیا کو انسان کے حوالہ کرتے ہوئے یہ تاکید کی کہ تم کو یہ حق حاصل ہے کہ تم دنیا کو اپنے لئے استعمال کرو۔ مگر تم کو یہ حق حاصل نہیں کہ تم اس کو بگاڑو۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی ترقی کا منصوبہ اس طرح بنائے کہ دنیا میں فطرت کا قائم کیا ہوا توازن ٹوٹنے نہ پائے۔ یہاں کی مختلف چیزوں میں جو تناسب رکھا گیا ہے، وہ جیسا ہے ویسا ہی باقی رہے۔ قرآن کے مطابق، انسان کو ایک اصلاح یافتہ دنیا دی گئی ہے، انسان کے اوپر لازم ہے کہ وہ اس اصلاحی حالت کو باقی رکھتے ہوئے اسے استعمال کرے۔ اگر انسان اس اصلاح میں خلل ڈالے اور وہ مسئلہ پیدا کرے جس کو ماحولیاتی مسئلہ کہا جاتا ہے تو خدا کے نزدیک وہ ایک مجرم قرار پائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues