Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

کے معاملات ہمیشہ پریکٹیکل سلوشن کے ذریعہ طے ہوتے ہیں۔

اسی طرح آپ دیکھیں گے کہ اکثر لوگ جب قومی معاملات میں بولتے یا لکھتے ہیں تو وہ غیر مفاہمانہ انداز میں کلام کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی لوگ خود اپنے ذاتی مسائل کو مفاہمت اور مصالحت کے ذریعہ حل کرتے ہیں۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی کی جبلّت (instinct) ہی رہنمائی کے لئے کافی ہے جو ہر ایک کو حاصل ہوتی ہے مگر ملّی اور قومی معاملات میں مفاہمت اور مصالحت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ شعور درکار ہے جو ایک کم تعلیم یافتہ معاشرہ میں لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا۔ سوال میں ماہنامہ الرسالہ کا ریگولر قاری ہوں۔ مجھے آپ کی یہ بات بہت پسند ہے کہ آپ ہمیشہ ناامیدی کے حالات میں امید کا پہلو تلاش کرتے ہیں۔ مایوسی کے حالات میں ہمت اور عزم پیدا کرنے والی بات کرتے ہیں۔ مگر مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان آپ کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ جو مسلمانوں کو یہ بتاتے ہیں کہ انڈیا میں اور دنیا بھر میں لوگ مسلمانوں کو مٹانا چاہتے ہیں ان کی باتیں مسلمان خوب شوق سے سنتے ہیں مگر آپ مسلمانوں کو خوش خبری دیتے ہیں تو مسلمانوں کو آپ کی بات اچھی نہیں لگتی۔ ایسا کیوں ہے۔ (محمد اصغر، نئی دہلی) جواب آپ کے اس سوال پر مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک بار میں بی بی سی لندن (ہندی) سن رہا تھا۔ انہوں نے پروگرام کے مطابق، مارینش میں مقیم ایک ہندو کا خط پڑھ کر سنایا۔ خط میں یہ شکایت کی گئی تھی کہ بی بی سی لندن اپنے ہندی پروگرام میں ہندی بولنے والے علاقے کی خبریں دیتا ہے مگر اس کے ہندی پروگرام میں کبھی مارینش کی کوئی خبر نہیں آتی۔ حالانکہ مارینش میں ہندی بولنے والے بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ بی بی سی لندن کے اناؤنسر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا کام یہ ہے کہ وہ بیڈنیوز (بری خبریں) نشر کرے جب کہ مارینش میں سب اچھی خبریں ہوتی ہیں۔ پھر اس نے ہنستے ہوئے کہا: And good news is no news.

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page